Pathar Ke Zamane Se AI Tak (16)
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (16)
لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ لائبریریاں تھیں، سرکاری لائبریری میونسپل کمیٹی کے تحت چل رہی تھی، وہ جی ٹی روڈ کے ساتھ تھی، اس میں ملک کے تمام اخبارات، رسائل اور جرائد آتے تھے اور کتابیں ملتی تھیں، ان میں سے بعض کتابیں قیام پاکستان سے قبل شائع ہوئی تھیں، کتابوں کے آخر میں پین سے ان لوگوں کے نام لکھے جاتے تھے جنہوں نے وہ کتاب ایشو کرائی اور پڑھی، مجھے چند ایسی کتابیں دیکھنے کا موقع ملا جو ریلوے کے انگریز اہلکاروں نے عطیہ کی تھیں یا وہ ان کے زیر مطالعہ رہی تھیں۔
ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم بھی لالہ موسیٰ میں رہتی تھیں، ان کے خاوند چودھری احمد خان پولیس آفیسر تھے، وہ مضافاتی گائوں سہنہ کے رہنے والے تھے، وہ انہیں کلکتہ سے لالہ موسیٰ لے آئے تھے، وہ اپنے دور کی عظیم گلوکارہ تھیں، لوگ ان کے پائوں چومتے تھے، ملکہ موسیقی نے شہر میں خوب صورت حویلی بنا رکھی تھی، حویلی کا گیٹ لوہے کی جالی کا تھا جس کے آر پار دیکھا جا سکتا تھا، ہم بچپن میں ان کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر اندر جھانکتے رہتے تھے، انہیں پودوں اور پرندوں کا شوق تھا، ان کے لان سے پرندوں کی آوازیں آتی تھیں اور وہ خود اپنے ہاتھ سے پودوں کو پانی دیتی تھیں، ہم تقریباً روز انہیں دیکھتے تھے، ان کا رنگ پکا اور بدن بھاری تھا لیکن اس کے باوجود ان میں بلا کی کشش تھی، مقامی لوگ انہیں "بنگالن" کہتے تھے، وہ کتابیں پڑھنے کی بھی شوقین تھیں، مجھے اس زمانے میں ایسی متعدد کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا جن کے آخر میں روشن آراء کا نام لکھا تھا، وہ کتابیں انہوں نے جاری کرائی تھیں جن میں ہیگرڈ کا ناول "شی" بھی شامل تھا۔
وہ لائبریری بعدازاں نئی عمارت کے نام پر گرا دی گئی، کتابیں عارضی طور پر میونسپل کمیٹی شفٹ کر دی گئیں لیکن وہ عمارت اس کے بعد دوبارہ کبھی نہیں بن سکی، مجھے قوی امید ہے لائبریری کی جگہ پر اب قبضہ ہو چکا ہوگا اور وہ کسی طاقتور شخص کی حرص کا رزق بن چکی ہوگی، کتابیں بھی میونسپل کمیٹی کے گوداموں میں پڑی پڑی ضائع ہوگئیں، پبلک لائبریری کے علاوہ شہر میں تین پرائیویٹ لائبریریاں تھیں، ہم اس زمانے میں انہیں آنا لائبریری کہتے تھے، مالکان ہر ماہ نئی کتابیں اور رسائل خریدتے تھے اور انہیں ایک آنا فی دن کے حساب سے کرائے پر دیتے تھے، ہمارے پاس مالیاتی وسائل کم ہوتے تھے چناں چہ ہم نے وہ کتاب ایک ہی دن میں مکمل کرنی ہوتی تھی۔
مجھے بچپن میں کتابوں کی لت پڑ گئی لہٰذا میں تینوں لائبریریاں چاٹ گیا، اس زمانے میں روسی ادب اردو میں ترجمہ ہو کر آتا تھا، وہ کتابیں اردو میں ٹائپ شدہ ہوتی تھیں، انہیں پڑھنا ذرا مشکل ہوتا تھا جب کہ پاکستانی کتابیں کتابت کے بعد شائع........
