menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pathar Ke Zamane Se AI Tak (13)

43 0
01.09.2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (13)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور اپنے بھائی کے جوتے چمکاتے گزرا، یہ چھوٹی سی گول ڈبی ہوتی تھی، بازار سے سیاہ بالوں والا شو برش آتا تھا، ہم ڈبی کھول کر پالش کی ناہموار سطح پر برش گھسیٹتے تھے اور پھر برش سے پالش جوتوں پر لگا کر رگڑتے رہتے تھے، اس زمانے میں پالش کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی تھی چناں چہ ہمارے ہاتھوں اور کپڑوں پر پالش لگ جاتی تھی اور آدھا دن ہاتھوں سے بو آتی رہتی تھی۔

آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے اس زمانے میں جوتے صرف سیاہ رنگ کے آتے تھے، یہ باٹا کمپنی کے بنے ہوتے تھے، آگے سے چوکور ہوتے تھے اور انہیں روز چمکانا پڑتا تھا، ہمارے بچپن میں برائون جوتے آئے اور اس کے ساتھ ہی برائون پالش بھی آ گئی، کینوس شوز 1980ء کی دہائی میں آئے، یہ بیڈمنٹن اور لان ٹینس کھیلنے کے لیے پہنے جاتے تھے، جاگرز 1990ء کی دہائی میں پاپولر ہوئے تھے، سروس کمپنی نے "چیتے" کے نام سے جاگرز متعارف کرایا تھا، اسے مشہور کرنے میں اس زمانے کے کرکٹ ہیروز جن میں وسیم اکرم زیادہ نمایاں تھے نے اہم کردار ادا کیا، ہم برائون شوز گھر اور تقریبات میں پہنتے تھے جب کہ سیاہ بوٹ سکول یونیفارم کا حصہ تھے، یہ اگر صاف اور پالشڈ نہیں ہوتے تھے تو سکول سے مار پڑتی تھی چناں چہ ہم انہیں روز چمکاتے تھے، پالش میں چمک پیدا کرنے کے لیے بعدازاں ویکس آ گئی، یہ بھی ڈبی میں ہوتی تھی، اس کا رنگ ہلکا پیلا تھا، ہم جوتے پالش کرنے کے بعد اس پر ریشمی کپڑے سے ویکس لگاتے تھے اور پھر اسے دھوپ میں رکھ دیتے تھے اور یوں وہ چمکنے لگتے تھے۔

اس زمانے میں ہر گھر میں راشن کارڈ ہوتا تھا، یہ گتے کا ٹکڑا تھا جس پر گھر کے افراد کی تعداد لکھی ہوتی تھی، بعدازاں یہ چھوٹی سی بک لیٹ یا ڈائری میں تبدیل ہوگیا، شہر میں راشن ڈپو ہوتے تھے، لوگ ہر ہفتے راشن کارڈ لے کر وہاں جاتے تھے اور ڈپو والے سے ہفتہ بھر کے لیے آٹا، چینی اور چاول لے کر آتے تھے، ہم کیوں کہ دیہاتی تھے لہٰذا ہماری خوراک گائوں سے آ جاتی تھی لیکن شہر کے لوگ راشن تک محدود تھے، اس زمانے میں ڈپو صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے عہدے داروں کو ملتا تھا چناں چہ ذوالفقار علی بھٹو کی تلوار نے بے شمار جیالوں کو نوازا، یہ لوگ آٹا، چاول اور چینی بازار میں بھی بیچ دیتے تھے جس کی وجہ سے یہ بلیکیے کہلاتے تھے۔

ڈپو کے دو مالکان میرے والد کے دوست تھے، وہ بھی راشن بچا کر ہماری دکان پر بیچ دیتے تھے، والدہ کو یہ کام اچھا نہیں لگتا تھا لہٰذا انہوں نے جھگڑا کرکے یہ کام بند کرایا اور ڈپو مالکان کو دھمکا کر بھگا دیا، اس زمانے میں لوگوں میں غربت........

© Daily Urdu