Balochistan Doob Raha Hai (6)
بلوچستان ڈوب رہا ہے (6)
آپ جسٹس افتخار محمد چودھری کو اچھی طرح جانتے ہیں، یہ سپریم کورٹ سے قبل کوئٹہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے، فروری 2000ء میں ان کی ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں ترقی تھی، جسٹس نواز مری ان کے بعد سینئر موسٹ اور کوئٹہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بننے تھے، میں آگے بڑھنے سے قبل آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں مری قبیلہ تین شاخوں میں تقسیم ہے، غزنی، لوہرانی اور بجارانی، قبیلے کی قیادت غزنی شاخ کے پاس ہے، نواب خیر بخش مری غزنی ہیں اور ان کی بجارانی مریوں کے ساتھ خاندانی لڑائی ہے، یہ ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہیں۔
جسٹس نواز بجارانی مری تھے، وہ اگر کوئٹہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بن جاتے تو غزنی مریوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام تھا چناں چہ جسٹس نواز مری کو چیف جسٹس بننے سے قبل چھ جنوری 2000ء کو ہائی کورٹ کے گیٹ پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا، یہ انتہائی خوف ناک واقعہ تھا، جسٹس نواز کی فیملی نے اس قتل کی ایف آئی آر نواب خیر بخش مری اور ان کے صاحب زادوں کے خلاف درج کرا دی جس کے بعد نواب کے چاروں بیٹے بالاچ مری، ہربیار مری، چنگیز خان مری اور گزین مری لندن بھاگ گئے، وہاں را ان کا انتظار کر رہی تھی۔
خیر بخش مری اس وقت کوئٹہ میں تھے، وہ جنرل پرویز مشرف کا دور تھا، پولیس نواب خیر بخش مری کو گرفتار کرنے سے گھبرا رہی تھی، معاملہ جب جنرل مشرف کے پاس گیا تو انہوں نے حکم دیا "پکڑو اسے اگر یہ نواب ہے تو کیا یہ جج کو قتل کر دے گا؟" پولیس اور فوج نے اس حکم کے بعد نواب مری کو گرفتار کر لیا اور یہاں سے بلوچستان میں مسلح جدوجہد شروع ہوگئی، خیر بخش مری کے صاحب زادوں بالاچ مری اور ہربیار مری نے لندن میں بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) کو دوبارہ ایکٹو کر دیا، را نے انہیں مالی وسائل فراہم کیے، یہ بلوچ نوجوانوں کو بھرتی کرنے لگے اور ریاستی اداروں اور شخصیات پر حملے شروع کر دیے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں بی ایل اے کے نئے دور نے جسٹس نواز کے قتل اور نواب خیر بخش مری کی گرفتاری سے جنم لیا لیکن یہاں یہ بات بھی کم دل چسپ نہیں جسٹس نواز مری کے قتل کی ایف آئی آر ان کے خاندان نے درج کرائی تھی، ریاست یا حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا لیکن بی ایل اے نے بجارانی مریوں کے بجائے ریاست پر براہ راست حملے شروع کر دیے، کیوں؟
کیوں کہ را کو بجارانی مریوں کی بجائے بلوچستان سے غرض تھی اور یہ بڑی مدت سے کسی ایسے واقعے کا انتظار کررہی تھی جس کے بعد بلوچستان میں آگ لگائی جا سکے اور نواب خیر بخش مری کی گرفتاری نے یہ موقع پیدا کر دیا، نواب مری کے بیٹوں کو لندن اور دوبئی میں بھاری رقوم ملنے لگیں اور یہ بلوچستان میں تباہی پھیلانے لگے، انہیں افغانستان اور ایران سے بھی مدد حاصل تھی، افغانستان میں بھارت نے بلوچوں کی مدد کے لیے........
