Betiyan To Sanjhi Hoti Hain
بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں
بیٹیاں نور نظر دل کی صدا ہوتی ہیں بیٹیاں مثل دعا مثل شفا ہوتی ہیں
تپتے صحراؤں میں یہ باد صَبا ہوتی ہیں بیٹیاں باپ کی پَگھ ماں کی رِدا ہوتی ہیں
ہمارے بڑے کہا کرتے تھے کہ بیٹییاں تو سانجھی ہوتی ہیں۔ ہر گھر میں بچیاں بہنیں باجیاں مل کے بیٹھتیں، مرد حضرات ان کے احساسات کا خیال رکھتے۔ ان کی باتوں کے شور کو برداشت کرتے اور کبھی باتوں باتوں میں کوئی گہری نصیحت بھی کرجاتے۔ اللہ بخشے ہمارے ماموؤں نے ایک دوسرے کی بیٹیوں کے ویسے ہی ناز اٹھائے جیسے اپنی بیٹی کے۔ کسی فنکشن کے لئے سب کو ایک جیسے کپڑے سلوا کے دینا اب بھی بہت یاد آتا ہے۔ میری دادو جان کی عادت تھی، محلے کی بچیوں کی خیر خبر رکھنا، کسی کے قرآن مکمل ہونے پر انعام دینا، کسی کے امتحان میں پاس ہونے پر مٹھائی لے جانا اور کسی کی منگنی شادی کے........
