menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Colombo Ki Aik Raat

50 0
07.09.2026

بارشوں کے گزشتہ موسم کی ایک شب کی بات ہے کہ میں کولمبو کے گال فیس ہوٹل کے برآمدے میں بیٹھا چنگھاڑتے غضب ناک سمندر کو دیکھ رہا تھا جو ورانڈے کے قدموں میں پتھریلے ساحل پر اپنا سر پٹختا تھا اور غصیلے آدمی کی طرح اپنے منہ سے جھاگ پیدا کرتا تھا۔ میرے ہاتھ میں اے حمید کی کتاب "یادوں کے گلاب" تھی اور میں اے حمید کو یاد کررہا تھا۔

کولمبو ایرپورٹ سے میں نے دانستہ طور پر موبائل فون کی مقامی سِم نہ لی تھی کہ میں انٹرنیٹ موبائل فون سے پہلے کی ٹھیری ٹھیری زندگی میں سکون کی چند سانسیں لینا چاہتا تھا، چند روز ماضی کے دور میں گزارنا چاہتا تھا۔

گزشتہ برسوں کے ہوائی سفر میں مَیں نے دیکھا کہ اب لوگ جہاز کے عملے سے اخبار بھی طلب نہیں کرتے جو صرف چند برس پہلے تک ہر دوسرے مسافر کے ہاتھوں میں نظر آتا تھا، خال خال کسی کے ہاتھ میں کتاب نظر آتی ہے، اُردو کتاب تو شاید ہی کسی کے ہاتھ میں دیکھی ہو۔ ایسے ہی ایک ہوائی سفر میں میرے بازو کی سیٹ پر ایک لڑکی بیٹھی تھی، اُبھرتی اداکارہ نووال پرویز ملک، وہ میرے ہاتھوں میں محمد حسین آزاد کی تصنیف "آبِ حیات" اور شکیل عادل زادہ کے نگارخانے سے "سب رنگ کہانیاں" دیکھ کر مچل گئی۔

"واؤ، آپ اُردو کتابیں پڑھتے ہیں"۔

میں اثبات میں سرہلا کر خاموش رہا کہ تکلف مانع تھا۔ البتہ یہ شعر دماغ میں گونجتا رہا۔

شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

اب کسی کو کیا بتاؤں کہ میرے بدن میں سَو برس کی بُڈھی روح بسیرا کرتی ہے۔ کیا بتاؤں کہ جدید ادب کے مطالعے میں وہ لطف، وہ اپنائیت نہیں ملتی جو قراۃ العین حیدر کے شاہ پاروں، محمد حسین آزاد و ابوالکلام آزاد کے شاہ کاروں، جوش و مفتوں و دانش و حمید نسیم کے سوانح اور صحرا نورد کے خطوط میں ہے۔

بارشوں کے گزشتہ موسم کی ایک شب کی بات ہے کہ میں کولمبو کے گال فیس ہوٹل کے برآمدے میں اے حمید کی کتاب تھامے اپنے کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل کو یاد کررہا تھا کہ انگریز راج دور کا یہ ہوٹل بیچ لگژری ہوٹل کا جڑواں بھائی لگتا تھا، فرق اتنا تھا کہ اُدھر گوروں کا اژدھام تھا ایک بے فکری اور آسودگی تھی اور اپنے ہاں یاسیت اور پژمردگی۔ دن میں کولمبو کی پرُسکون سڑکوں، بین الاقوامی سیاحوں سے بھرے بازاروں، رنگا رنگ جدید ہوٹلوں، کلبوں اور ریستورانوں کی آزاد فضاؤں کو دیکھ کر لحظہ دو لحظہ کے لیے خیال آتا تھا کہ اگر ہمارا کراچی ماضی کی سج دھج برقرار رکھتا تو آج ایسا ہی ہوتا۔

البتہ اُس رات میں اے حمید کا سوچ رہا تھا۔

میرے بچپن میں ہمارے بھرے پرُے آبائی گھر"نوائے وقت" اخبار آیا کرتا تھا۔ امرت سر(جسے ہمیشہ امبرسر کہا جاتا) سے جدی پشتی تعلق کی وجہ سے اے حمید کا ہفتہ وار سلسلہ، بارش، خوشبو،........

© Daily Urdu