Dehshat Gardi Ke Khilaf Faisla Kun Hikmat e Amli Waqt Ki Zaroorat
دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن حکمتِ عملی وقت کی ضرورت
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل، کٹھن اور خونریز جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول سے لے کر مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں، سکولوں اور عوامی مقامات تک، دہشت گردی نے ملک کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا خاندان ہو جس نے اس جنگ کی تلخیاں کسی نہ کسی صورت میں نہ دیکھی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کا معاملہ محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال بن چکا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ایک مرتبہ پھر پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف مواقع پر پاکستانی حکام کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بعض دہشت گرد گروہ سرحد پار محفوظ ٹھکانے استعمال کرتے ہیں اور وہاں سے پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں۔ پاکستان بارہا اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر چکا ہے اور اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب، قومیت یا انسانیت نہیں ہوتی۔ ان کا مقصد صرف خوف پھیلانا، ریاستی اداروں کو کمزور کرنا اور........
