Ustazi, Janam Janam Ki Sair
استاذی، جنم جنم کی سیر
شاگرد ہیں ہم میرؔ سے استاد کے راسخؔ استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا
دو صدیاں قبل راسخ عظیم ابادی نے یہ شعر کہا تو اپنے استاد خدائے سخن میر تقی میر کے بارے میں تھا لیکن اس کا انطباق ہر زمانے میں ہر اس استاد پر بھی ہوتا ہے جو "قائدانہ کروفر" کے بجائے حقیقی معنوں میں استادانہ منصب پر فائز ہو۔ طالب علم سے شفقت آمیز برتاؤ کا قائل ہو اور اپنی تبحر علمی سے ہر طالب علم میں علمی تشنگی بڑھا دے۔
گورنمنٹ سول لائنز کالج ملتان کے جن اساتذہ نے علمی وقار اور شگفتہ طبعی سے اپنے طالب علموں کے دل و دماغ میں محبت آمیز احترام کا رشتہ قائم کیا ان میں استاذی عامر سہیل کا نام نمایاں تر ہے۔ ھم نے ان سے پڑھتے ہوئے ہمیشہ آسودگی اور طمانیت محسوس کی۔ وہ بات کرتے تو احساس ہوتا تھا کہ دوستانہ بے تکلفی اور استادانہ علمی عجز و انکسار مجسم ہو گئے ہیں۔
بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا کہ کلاس روم نے ایک آشرم کا درجہ اختیار کر لیا ہے۔ گرو (استاد) اپنے ششیوں (شاگردوں) کے ساتھ بیٹھے ایک جگ جہان کی جیون کتھا سنائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ کتاب سامنے ہوتی لیکن کتاب سے زیادہ اہم اور وقیع وہ ذہنی آسودگی ہوتی جس سے سوال جنم لیتے تھے۔
کلاس پڑھاتے ہوئے ان کی آنکھوں میں خوش کن چمک اور چہرے پر عجیب سرشاری نظر آتی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انھیں پڑھاتے ہوئے قلبی راحت حاصل ہو رہی ہو اور یہی کیفیت ھم ایسے طالب علم بھی اپنے دلوں میں محسوس کرتے تھے۔
استاذی بنیادی طور پر "تقریب کار" واقع ہوئے ہیں۔ چناں چہ اپنی تقریب پسند طبیعت کے پیش نظر اپنی "تقریب کاری" کے نت نئے جلوے دکھاتے رہتے ہیں۔ وہ جہاں بھی گئے ایک داستاں چھوڑ آئے۔ ان میں سب سے بڑی مثال تو ملتان آرٹس فورم ہے جہاں گزشتہ اکتیس برس سے مسلسل اجلاس کرا رہے ہیں۔ یہیں پر تنقیدی اجلاس ہوتے ہیں، کتب........
