menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ranai e Khayal o Khat: Lahore Mein Fan e Musawari Ki Numaish, Riwayat, Tareekh Aur Irtiqa

36 0
20.08.2026

رعنائیِ خیال و خط: لاہور میں فنِ مصوری کی نمائش، روایت، تاریخ اور ارتقا

جنوبی ایشیا میں فن کا تصور مغربی دنیا کے تصورِ "آرٹ" سے کہیں زیادہ قدیم اور وسیع ہے۔ برصغیر کی تہذیبی روایت میں فن کو محض جمالیاتی اظہار تک محدود نہیں کیا گیا بلکہ اسے زندگی، مذہب، معاشرت، دستکاری، تعمیر، موسیقی، شاعری اور روحانی تاثرات سے منسلک کیا گیا۔ قدیم ہندوستانی روایت میں لفظ "کلا" ایک وسیع مفہوم رکھتا، جس میں تخلیقی مہارت، ہنر اور جمالیاتی اظہار شامل تھے۔ اس کے مقابلے میں "آرٹ" کی اصطلاح نوآبادیاتی دور میں برصغیر میں نمایاں ہوئی۔

آرٹ اسکول، نمائش اور عجائب گھر جیسے تصورات نوآبادیاتی نظام کا حصہ بن کر منظر عام پر آ ئے۔ لاہور میں اسکی اہم مثال میو اسکول برائے آرٹ تھا، جو 1875ء میں قائم ہوا اور لاہور میوزیم کے ساتھ منسلک کیا گیا اس کا مقصد مقامی فنون و دستکاری کو محفوظ کرنا، ہنرمندوں کو تربیت دینا اور دستکاری کی ترقی کو فروغ دینا تھا۔۔ پہلے پرنسپل جان لاک ووڈ کپلنگ تھے، جو جے جے اسکول بمبئی کے استاد اور لاہور میوزیم کے کیوریٹر بھی تھے۔ میو اسکول نے لاہور میں فن، تعلیم، دستکاری، عجائب گھر اور نمائش کو وسعت دی۔ نمائشیں مقامی ثقافت کی نمائندگی اور نوآبادیاتی علم کو پیش کرنے کا ذریعہ بنیں۔ جہاں مقامی ثقافت کو جدید بصری زبان میں پیش کیا........

© Daily Urdu