Bache Hamari Amanat Hain
رات کے تقریباً دس بجے کا وقت تھا۔ ایک گھر میں کھانے کی میز پر چار افراد بیٹھے تھے۔ باپ موبائل پر مصروف تھا، ماں ٹی وی پر چلنے والے ڈرامے میں کھوئی ہوئی تھی، بیٹا کانوں میں ہینڈ فری لگائے کسی گیم میں مصروف تھا اور بیٹی ویڈیو کال پر کسی سہیلی سے بات کر رہی تھی۔ دسترخوان پر کھانا موجود تھا، گھر میں آسائش کی کوئی کمی نہ تھی مگر ایک چیز غائب تھی۔۔ آپس کی گفتگو۔
یہ منظر کسی ایک گھر کی کہانی نہیں۔ ہمارے شہروں اور دیہات کے بے شمار گھروں میں آج یہی خاموشی آباد ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کو اچھے اسکول دیے، مہنگے موبائل فون دیے، برانڈڈ کپڑے دیے، الگ کمرے دیے، جیب خرچ دیا، تفریح کے مواقع دیے مگر شاید وہ چیز دینا بھول گئے جس کی انہیں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔۔ اپنا وقت، اپنی توجہ اور اپنی رفاقت۔
ایک ہمارا زمانہ تھا جب ہم سکول سے آنے کے بعد کھانے کے فوراً بعد گلی میں نکل جاتے تھے۔ کسی کے گھر میں کرکٹ کھیلی جاتی، کسی کے صحن میں لڈو کی بساط بچھتی، کسی بزرگ کے پاس بیٹھ کر کہانیاں سنی جاتیں۔ شام کو بجلی چلی جاتی تو گھر میں........
