Dosti Aik Imtihaan Aik Sach
دوستی ایک امتحان ایک سچ
دوست کے بے شمار معنی میں ایک معنی یہ بھی ہیں کی وہ شخص جس کی خیر خواہی اور محبت قابلِ اعتبار ہو۔ کہتے ہیں کہ اگر کوئی دوستی سات سال تک قائم رہے تو وہ مضبوط اور بہترین دوستی بن جاتی ہے، کیونکہ ان سات برسوں میں انسان زندگی کے کئی رنگ ایک ساتھ جیتا ہے۔ ہم ہنستے ہیں، روتے ہیں، خوش ہوتے ہیں، غمگین ہوتے ہیں، مشکلات میں گھرتے ہیں اور پھر انہی لمحوں کو اپنے دکھوں کو کسی اپنے کے ساتھ بانٹ کر ہلکا محسوس کرتے ہیں۔
بظاہر یہ سب کچھ ہی تو دوستی ہے، مگر سوال وہی ہے جو ہمیشہ سے پوچھا اور سوچا جاتا ہے کہ آخر دوستی ہے کیا؟ کیا صرف وقت گزارنے کا نام ہے، یا جذبات کے تبادلے کا، یا پھر کسی کے ساتھ بے وجہ جڑ جانے کا ایک خاموش معاہدہ؟ ایسا معاہدے کو کبھی اصولوں کے تحت نہیں کیا جاتا۔۔
دوستی دراصل ایک ایسا رشتہ ہے جو خون کے رشتوں سے ہٹ کر بنتا ہے، مگر کئی بار ان سے زیادہ گہرا محسوس ہوتا ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جہاں انسان بنا کسی دکھاوے کے خود کو پیش کرتا ہے۔ جہاں کوئی بھی شخص بناوٹی انداز نہیں اپناتا وہ فطری اور بے تکلفی کے ساتھ اپنے دوست کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن یہی دوستی جب آزمائش کے مرحلے سے گزرتی ہے تو اس کی حقیقت کھلنے لگتی ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچپن سے لے کر جوانی تک ساتھ چلنے والے دوست ایک موڑ پر آ کر اجنبی ہو جاتے ہیں۔ وہی شخص جو آپ کا راز دان تھا، آپ کی ہر خوشی اور غم میں شریک تھا، اچانک آپ کو سمجھنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ یہ تبدیلی کیوں آتی ہے؟ اس کی وجوہات کئی ہو سکتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ترجیحات بدل جاتی ہیں، سوچ میں فرق آ جاتا ہے، یا پھر زندگی کے راستے الگ ہو جاتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص آگے بڑھ جاتا ہے اور دوسرا وہیں رہ جاتا ہے اور یہ فاصلے پھر کئی قدموں کئی سالوں کئی صدیوں پر بھی محیط ہو جاتے ہیں۔
دوستی میں سب سے بڑی انویسٹ منٹ وقت، جذبات اور خلوص کی ہوتی ہے۔ ہم اپنے دوست کے لیے اپنا وقت نکالتے ہیں، اس کے لیے فکر کرتے ہیں، اس کی خوشی میں خوش اور اس کے غم میں اداس ہوتے ہیں۔ مگر جب یہی خلوص یک طرفہ ہو جائے تو دل میں ایک خلا پیدا ہونے لگتا ہے۔ وہ خلا جو سوال بن کر ابھرتا ہے کہ کیا واقعی یہ دوستی تھی یا صرف ایک عارضی ساتھ؟
کبھی کبھی ہم بہت جلد بازی میں کسی کو مکمل سمجھ لینے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسے اپنی زندگی کے ہر ہر گوشے میں شامل کر لیتے ہیں اور انھیں اپنا سب سے زیادہ وفادار اور مخلص سمجھتے ہیں۔ ہم ان کے لیے لڑتے ہیں، ان کے لیے دنیا سے ٹکراتے ہیں، ان کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر وقت ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر رشتہ۔۔ نہیں رشتہ نہیں تعلق دائمی نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں صرف ایک خاص وقت کے لیے آتے ہیں، ہمیں کچھ سکھا کر چلے جاتے ہیں۔
سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب وہی دوست آپ کو نظر انداز کرنے لگے، آپ سے بات کرنے میں جھجھک محسوس کرے یا آپ کو دوسروں کے سامنے نظر انداز کرنے کی کوشش کرے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ شاید ہم جسے دوستی سمجھ رہے تھے، وہ صرف ایک وقتی وابستگی تھی۔۔ ان تمام باتوں سے سب متفق نہیں ہوسکتے مگر وہ جنہوں نے ان سب باتوں کا تجربہ کیا ہو وہ اسے ضرور سمجھیں گے۔
زندگی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ سچی دوستی بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اکثر لوگ وقتی فائدے یا حالات کے تحت قریب آتے ہیں اور جیسے ہی حالات بدلتے ہیں، وہ بھی بدل جاتے ہیں اور انھیں خود بھی علم نہیں ہوتا کہ سامنے والا ان کے ساتھ کس حد تک مخلص تھا ایسے میں انسان کو یہ سمجھ آتی ہے کہ اصل مخلص رشتے کون سے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ کے والدین، بہن بھائی یا شریکِ حیات آپ کے ساتھ مخلص ہیں، آپ کو سمجھتے ہیں، آپ کے دکھ سکھ میں شریک ہیں، تو وہی آپ کے بہترین دوست ہیں۔ ان رشتوں میں خلوص بھی ہوتا ہے اور پائیداری بھی۔ یہ وہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوتے ہیں، مگر ان میں سچائی اور احترام لازمی ہے۔
اور اگر کسی ایک چیز کو سب سے بڑا دوست کہا جائے تو وہ وقت ہے۔ وقت ہی وہ استاد ہے جو انسان کو ہر حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ وقت ہی بتاتا ہے کہ کون آپ کے ساتھ مخلص تھا اور کون صرف ایک وقتی ساتھی۔ وقت ہی آپ کو یہ سکھاتا ہے کہ کہاں خود کو انویسٹ کرنا ہے اور کہاں خود کو سنبھال لینا ہے۔
دوستی ایک خوبصورت احساس ضرور ہے، مگر اسے اندھا یقین نہیں بنانا چاہیے۔ ہر تعلق کو اس کی حقیقت کے مطابق سمجھنا ضروری ہے۔ جو لوگ آپ کے ساتھ رہیں، ان کی قدر کریں اور جو چھوڑ جائیں، انہیں ایک سبق سمجھ کر آگے بڑھ جائیں۔ کیونکہ زندگی رکنے کا نام نہیں یہ آپ کی ہے اور ایک ہی بار ملتی ہے اسے دوسروں کے لیے ضائع نہ کریں۔ کیونکہ ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا۔۔ اس پر جون ایلیا صاحب کا شعر یاد آرہا ہے کہ
ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو
