menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lahore Mein Basant, Aik Naya Imtihan?

10 0
yesterday

لاہور میں بسنتت، ایک نیا امتحان؟

تقریباً دو دہائیوں کے طویل انتظار کے بعد، لاہور کے آسمان ایک بار پھر رنگ و نور میں نہانے کو تیار ہیں۔ پنجاب حکومت نے فروری 2026 میں بسنت منانے کی مشروط اجازت دے دی ہے، جس نے پتنگ بازوں اور اس فن سے وابستہ کاریگروں میں خوشی کی لہر دوڑ دی ہے۔ 2007 سے پابندی کا شکار یہ 800 سالہ قدیم تہوار اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ واپس تو آ رہا ہے، مگر اس بار اس کے ساتھ ذمہ داریوں کا ایک بھاری بوجھ بھی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ ثقافت کی بحالی خوش آئند ہے، مگر عوامی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے ایک جامع "سیفٹی پلان" متعارف کرایا ہے، جس کے تحت شہر کو مختلف مانیٹرنگ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کے لیے 10 لاکھ مفت حفاظتی راڈز تقسیم کیے جا رہے ہیں اور "نو راڈ، نو انٹری" جیسی سخت پالیسیاں وضع کی گئی ہیں۔

تاہم، بسنت کی یہ واپسی ماضی کے ان سیاہ اور تلخ واقعات کے سائے میں ہو رہی ہے جنہوں نے اس میلے کو "خونی کھیل" میں بدل دیا تھا۔ 2007 میں پابندی کی اصل وجہ وہ دلخراش حادثات تھے جن میں کیمیکل اور دھاتی ڈور نے درجنوں معصوم جانیں نگل لیں۔ صرف 2006 اور 2007 کے درمیانی عرصے میں پنجاب بھر میں 150 سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں اکثریت ان موٹر سائیکل سواروں کی تھی جن کے گلے پتنگ کی ڈور سے کٹ گئے تھے۔ اس کے علاوہ، دھاتی ڈور سے بجلی کے ٹرانسفارمرز پھٹنے، ہوائی فائرنگ سے اندھی گولیاں لگنے اور چھتوں سے گرنے جیسے واقعات نے کئی گھرانے اجاڑ دیے تھے۔

پاکستانی تناظر میں دیکھا جائے تو بسنت کی بحالی حکومت کے لیے ایک بڑا انتظامی امتحان ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ایونٹ کی کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف "قاتل ڈور" (کٹنی ڈور) کی تیاری اور فروخت روکنے پر ہے۔ اگر ریاست ان عناصر کو لگام ڈالنے میں ناکام رہی جو پسِ پردہ غیر قانونی مواد بناتے ہیں، تو یہ خوشی ایک بار پھر ماتم میں بدل سکتی ہے۔

جہاں یہ فیصلہ مقامی معیشت اور سیاحت کے لیے ایک بڑی نوید ہے، وہیں شہریوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تفریح تب تک ہی خوبصورت ہے جب تک وہ کسی کی زندگی کے لیے خطرہ نہ بنے۔ اگر لاہوریے ہوائی فائرنگ سے گریز کریں، صرف منظور شدہ سوتی ڈور استعمال کریں اور اپنے بچوں کی کڑی نگرانی کریں، تو یہ رنگین تہوار صرف ماضی کی یادوں کی واپسی نہیں بلکہ ایک محفوظ اور ذمہ دار معاشرے کی عکاسی بھی ثابت ہوگا۔


© Daily Urdu (Blogs)