menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ye Kya Hua?

24 0
12.10.2026

مجھے کشور کمار کا ایک گیت یاد آ رہا ہے "یہ کیا ہوا، کیسے ہوا، کیوں ہوا، کب ہوا، جب ہوا، تب ہوا، چھوڑو یہ نہ پوچھو"۔۔

تحریکِ انصاف کا المیہ یہ نہیں کہ عمران خان جیل میں ہیں بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ عمران خان کے جیل میں جاتے ہی جماعت کا سیاسی نظام مفلوج ہوگیا۔ ایک ایسی جماعت جس نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو چیلنج کیا، نوجوانوں کو متحرک کیا، انتخابی سیاست میں غیر معمولی کامیابیاں سمیٹیں اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچی، وہ اپنے قائد کی غیر موجودگی میں اجتماعی قیادت کا ایک قابلِ اعتبار بندوبست بھی قائم نہ رکھ سکی۔ سوال یہ ہے کہ جو جماعت اپنے بانی کے بغیر نہیں چل سکتی وہ سیاسی جماعت ہے یا ایک شخص کے گرد گھومتا ہوا ہجوم؟

تحریکِ انصاف کی سیاست ایک ایسے شمسی نظام سے مشابہ رہی جس کا سورج عمران خان تھے اور باقی تمام رہنما، کارکن اور عہدیدار ان کے گرد گردش کرنے والے سیارے۔ سورج اپنی جگہ موجود ہو تو نظام قائم رہتا ہے، لیکن سورج نظروں سے اوجھل ہو جائے تو سیاروں کو اپنی اپنی گردش کا راستہ بھی یاد نہیں رہتا۔ یہی کچھ تحریکِ انصاف کے ساتھ ہوا۔ عمران خان منظر سے ہٹے تو معلوم ہوا کہ جماعت کے پاس کارکن تو ہیں، تنظیم نہیں۔ جذبات تو ہیں، پالیسی نہیں۔ مقبولیت تو ہے، مگر قیادت کی ایسی دوسری صف نہیں جو فیصلے کرنے، اختلاف سمیٹنے اور سیاسی حکمتِ عملی تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

تحریکِ انصاف ایک سیاسی جماعت کے بجائے ایک تحریک بن کر رہ گئی۔ تحریک کا ایندھن جذبات، نعرے اور ایک مقبول رہنما سے وابستگی ہوتے ہیں جبکہ جماعت کو تنظیم، نظم، داخلی جمہوریت، تربیت یافتہ قیادت اور اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ تحریکِ انصاف نے پہلے عناصر پر خوب سرمایہ کاری کی، دوسرے عناصر کو ہمیشہ ثانوی حیثیت دی۔ اب جب سیاسی جذبات کو تنظیمی عقل کی ضرورت ہے تو جماعت کے پاس نعروں کی فراوانی ہے مگر فیصلوں کا بحران۔

اس کہانی کا ایک اہم باب مقتدرہ کے ساتھ تحریکِ انصاف کے تعلقات بھی ہیں۔ جماعت کا ابھار محض عمران خان کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس میں ریاستی طاقت کے مرکز جی ایچ کیو سے قربت، روایتی سیاسی جماعتوں سے الیکٹیبلز کی آمد اور انتخابی انجینئرنگ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت مختلف جماعتوں سے سیاست دان توڑ کر لائے گئے، مقامی بااثر خاندانوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو جمع کیا گیا اور یوں ایک بندوبست وجود میں آیا جسے نیا پاکستان کا نام دیا گیا۔

خان صاحب جن کا دعویٰ تھا کہ ان کی جدوجہد بائیس برس پر محیط ہے اور ان کے پاس نظریاتی کارکنوں کی پوری ٹیم موجود ہے۔ اقتدار قریب آیا تو یہی سوال سامنے آ گیا کہ باقی سب ٹھیک ہے، مگر اقتدار کے لیے مطلوبہ امیدوار کہاں سے لائے........

© Daily Urdu (Blogs)