menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Waqt Ki Adalat Mein, Hum Sab Mujrim Hain

47 0
22.09.2026

وقت کی عدالت میں، ہم سب مجرم

عدالتیں دیواروں میں قید ہوتی ہیں۔ وقت کی عدالت بےدیوار ہے۔ اِس میں کوئی دروازہ نہیں جس سے داخل ہوا جائے، کوئی کٹہرا نہیں جس میں لایا جائے، کیونکہ یہاں ہر شخص پہلے سے موجود ہے، پیدائش کے لمحے سے ہی حاضر اور فیصلہ ہونے تک حاضر رہے گا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اکثریت کو اپنی حاضری کا علم نہیں۔

جرم کی روایتی تعریف ہاتھ کی حرکت مانگتی ہے: ایک وار، ایک دھکا، ایک دستخط۔ مگر بیسویں صدی نے اس تعریف کو توڑ دیا۔ 1945 میں جب نیورمبرگ کی عدالت میں نازی افسروں نے یہ دلیل دی کہ انہوں نے محض حکم کی تعمیل کی، عدالت نے اس دفاع کو مسترد کر دیا اور یہ اصول رقم کیا کہ حکم کی تعمیل جرم سے بریت کی ضمانت نہیں دیتی۔ یہ فیصلہ دراصل ایک نئی فقہ کی بنیاد تھا: عمل نہ کرنا بھی ایک عمل ہے اور اُس کا حساب اتنا ہی سخت ہے جتنا عمل کرنے کا۔

دو دہائیوں بعد اسی نکتے کو ایک اور زاویے سے کھولا گیا۔ نازی افسر ایڈولف آئیخمان کے مقدمے کی رپورٹنگ کرتے ہوئے فلسفی حنا آرینٹ نے یہ مشاہدہ پیش کیا کہ سب سے ہولناک جرائم اکثر درندوں کے ہاتھوں نہیں ہوتے، بلکہ اُن عام، دفتری، بےتاثر لہجے میں بات کرنے والے افراد کے ہاتھوں ہوتے ہیں جو صرف اپنا "کام" نبھا........

© Daily Urdu (Blogs)