menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Behr e Takhleeq Ka Geniati o Roohani Safar

22 7
12.01.2026

انسانی وجود کی ابتدا اور صنفِ نازک کی تخلیق کا موضوع ہمیشہ سے ایک معمہ رہا ہے۔ میرا یہ مقالہ اس بنیادی نظریے کو پیش کرتا ہے کہ حواؑ کی تخلیق باری تعالیٰ کے نظامِ تخلیق میں بنیادی طور پر پہلے سے موجود تھی، کیونکہ کائنات کی ہر شے جوڑوں (Pairs) کی صورت میں بنائی گئی ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حواؑ کی تخلیق آدمؑ کی جنت میں اداسی دور کرنے کے لیے کی گئی، لیکن میں اس تحقیق کے ذریعے یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی ہنگامی فیصلہ نہیں تھا۔ آدمؑ کی تخلیق سے پہلے ہی ان کا جوڑا ان کے جینیاتی وجود یعنی نفسِ واحدہ (Genetic Entity) کے اندر علیحدہ کرکے وضع (Design) کر دیا گیا تھا۔ یہ ایک عظیم جینیاتی انجینئرنگ (Genetic Engineering) تھی جہاں بائبل کی "پسلی" اور قرآن کا "نفسِ واحدہ" ایک ہی سچائی کے دو رخ بن کر سامنے آتے ہیں۔ میرا یہ مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ انسانیت کی بنیاد اس "وحدت" پر ہے جہاں ایک ہی جان کو دو رخوں، سیدھا (Right) اور الٹا (Left) میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کا "زوج" بنایا گیا۔

اول: الہامی مآخذ اور پسلی کے ذکر کی ابتدا

تحقیق کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انسانی تخلیق میں "پسلی" کا ذکر سب سے پہلے کہاں سے آیا؟ یہ ذکر قدیم الہامی کتب (Divine Books) میں ملتا ہے:

1۔ بائبلی بیانیہ: کتابِ پیدائش (Genesis)

بائبل کی پہلی کتاب، "کتابِ پیدائش" کے دوسرے باب میں یہ واقعہ........

© Daily Urdu (Blogs)