Ahmad Iqbal Ka Shikari Aur Iqbali Bayan
احمد اقبال کا شکاری اور اقبالی بیان
میں احمد اقبال نامی شکاری کے ہاتھوں شکار ہونے والا ہوں۔۔ اگلے کتنے ہی روز و شب میرے ایک جادو نگری میں گزریں گے۔ اس جادو نگری کا دروازہ میرے لیے برسوں پہلے جاسوسی ڈائجسٹ نے کھولا تھا۔ میں کبھی جاسوسی ڈائجسٹ کا باقاعدہ، یا یوں کہہ لیں کہ ماہانہ قاری نہیں رہا۔ ہمیشہ پرانی کتابوں کی دکانوں سے یہ رسالہ خریدا۔ اس کا بڑا فائدہ یہ تھا کہ ایک نئے شمارے کی قیمت میں کئی پرانے رسالے مل جایا کرتے تھے۔
پرانی کتابوں کی دکان پر پہنچ کر میں جاسوسی ڈائجسٹ اٹھاتا اور سیدھا وہ صفحہ کھولتا جس پر درج ہوتا کہ رسالے میں کس کس مصنف کی تحریر ہے۔ جس شمارے میں شکاری کے ساتھ احمد اقبال کی ہی کوئی اور تحریر بھی ہوتی، اسے خرید لیا کرتا۔
سکول اور کالج کی زندگی میں گرمیوں کی کتنی ہی چھٹیاں یہ تحریریں پڑھتے گزاریں۔ احمد اقبال کے تخلیق کردہ کرداروں کو اپنے سامنے چلتے پھرتے محسوس کیا، ان کے فسوں خیز مکالموں سے لطف اندوز ہوا۔ رسالہ کمرے میں رکھ کر باہر جاتا تو بھی احمد اقبال کی کہانی میرے ساتھ چلی آتی۔
پھر عمر بڑھی........
