menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Siasi Kasheedgi, Molana Aik Bar Phir Markaz e Nigah

36 0
10.10.2026

سیاسی کشیدگی، مولانا ایک بار پھر مرکز نگاہ

​قومی سیاست میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔ اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم ہو چکا ہے۔ جب سے مولانا فضل الرحمان حرمین شریفین کے مقدس سفر سے واپس پاکستان تشریف لائے ہیں، ان کی رہائش گاہ ایک بار پھر مرکز نگاہ بن چکی ہے اور اس سیاسی یونیورسٹی میں سیاسی طالب علموں کی آمد و رفت جاری ہے۔ مولانا کی واپسی کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں کی نظریں بھی ایک بار پھر ان کی طرف مرکوز ہوگئی ہیں اور ہر طرف یہ سوال موجود ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مولانا کا کردار کیا ہو سکتا ہے۔

​مولانا کے عمرے سے واپسی کے دن ہی اپوزیشن لیڈر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد نے مولانا کے آشیانے پر حاضری دی، جس میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس، اسدقیصر، سلمان اکرم راجہ اور دیگر رہنما شامل تھے۔ مولانا کے ساتھ سیاسی حوالے سے بات چیت ہوئی اور منعقدہ مارچ اور موجودہ سیاسی ماحول کے حوالے سے بھی گفت و شنید ہوئی۔ اس کے فوراً بعد حکومتی ٹیم، رانا ثناء اللہ، طارق فضل چوہدری اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی مولانا کے ہاں تشریف لے گئے اور ان سے ملاقات کی۔

​اگرچه بظاہر حکومتی اور اپوزیشن دونوں کا موقف ہے کہ وہ مولانا کو عمرے کی مبارکباد دینے گئے تھے، لیکن یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، بلکہ اظہر من الشمس ہے کہ جب دو سیاسی قائدین بیٹھتے ہیں اور ملاقات ہوتی ہے تو سیاسی امور پر بات چیت اور مشاورت بھی ہوتی رہتی ہے۔ اگر ان کے اس موقف کو درست مان بھی لیا جائے کہ وہ مولانا کو عمرے کی مبارکباد دینے گئے تھے، تو مولانا تو ماشاءاللہ ہر سال دو تین دفعہ حرمین........

© Daily Urdu (Blogs)