Aman Ki Katha
دنیا میں جنگیں حکومتیں شروع کرتی ہیں لیکن ان کی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ سرحدوں پر گولیاں چلتی ہیں، فیصلے ایوانوں میں ہوتے ہیں، تقریریں سیاست دان کرتے ہیں، لیکن سب سے پہلے متاثر ہونے والوں میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن کا جنگ اور سیاست سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایک کسان، ایک مزدور، ایک طالب علم، ایک شاعر، ایک موسیقار اور ایک فنکار۔
فن کی شاید سب سے بڑی طاقت ہی یہ ہے کہ وہ سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ ایک گانا اگر لاہور میں کسی کے دل کو چھو سکتا ہے تو وہی گانا دہلی میں بھی کسی کی آنکھ نم کر سکتا ہے۔ ایک اچھی فلم اگر ممبئی کے ناظرین کو متاثر کرتی ہے تو کراچی اور لاہور کے لوگ بھی اس میں اپنا دکھ، اپنی خوشی اور اپنی زندگی تلاش کر لیتے ہیں۔ محبت کی زبان، دکھ کی زبان، موسیقی کی زبان اور فن کی زبان کو ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ سیاست اکثر وہاں بھی دیوار کھڑی کر دیتی ہے جہاں انسانوں نے کبھی دیوار کا تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
29 اگست کو مجھے لاہور میں SAFMA میں ایک مختصر فلم کی سکریننگ میں جانے کا موقع ملا۔ فلم کا نام تھا "امن کی کتھا"۔ یہ فلم میرے دوست، ڈائریکٹر مبین انصاری نے اپنی پروڈکشن کمپنی فن کار پروڈکشنز کے پلیٹ فارم سے بنائی ہے جبکہ اس کی کہانی اور اسکرپٹ چکوال سے تعلق رکھنے والے دوست سمیع محبوب نے لکھی ہے۔
یہ ایک مختصر فلم تھی، وسائل محدود تھے، بجٹ بھی یقیناً کسی بڑے کمرشل منصوبے جیسا نہیں تھا، لیکن بعض اوقات کسی تخلیق کی اصل طاقت اس کے بجٹ میں نہیں بلکہ اس کے خیال میں ہوتی ہے۔
"امن کی کتھا" کا خیال بڑا سادہ ہے، لیکن اسی سادگی میں اس کی اصل طاقت چھپی ہوئی ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جب کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا اثر صرف سرحدوں اور سفارتی تعلقات تک محدود نہیں رہتا۔ دونوں ملکوں کے فنکار بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ملک میں جانے پر پابندیاں لگ جاتی ہیں، فلموں میں کام کرنے کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیاں رک جاتی ہیں اور وہ لوگ جو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر فن تخلیق کرنا چاہتے ہیں، سیاست کی دیوار کے دو طرف کھڑے رہ جاتے ہیں۔
فلم یہی سوال اٹھاتی ہے کہ آخر فنکار کا جرم کیا ہے؟ وہ تو امن چاہتا ہے، وہ تو کام کرنا چاہتا ہے۔ وہ تو اپنے فن کے ذریعے لوگوں کو جوڑنا چاہتا ہے۔
پاکستانی فنکار ہو یا بھارتی، ایک اچھا فنکار جنگ نہیں چاہتا کیونکہ جنگ سب سے پہلے انسان کے اندر موجود خوبصورتی کو مارتی ہے۔ جنگ کے ماحول میں موسیقی خاموش ہو جاتی ہے، تھیٹر کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، فلمیں رک جاتی ہیں اور انسان دوسرے انسان کو صرف اس کے ملک، مذہب یا شناخت کی بنیاد پر دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔
"امن کی کتھا" دراصل اسی دکھ کی کہانی ہے۔
میں نے فلم دیکھی اور مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ مبین انصاری نے محدود وسائل کے باوجود ایک ایسا کام کیا جسے دیکھ کر محسوس نہیں ہوتا کہ یہ صرف کم بجٹ کا تجربہ ہے۔ فلم کی پروڈکشن، اس کا موضوع، پیشکش اور مجموعی انداز قابلِ تعریف تھا۔ وہاں موجود لوگوں نے بھی فلم کو پسند کیا اور یہ پسندیدگی محض رسمی تالیاں نہیں تھیں۔
یہاں اصل سوال مبین انصاری یا ایک شارٹ فلم کا نہیں ہے۔ اصل سوال پاکستان کی فلم انڈسٹری کا ہے۔ ہم آخر کب تک یہ کہتے رہیں گے کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں؟ وسائل نہیں ہیں یا ہم نے فن........
