menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hasraton Ka Bojh Aur Rasm e Taziyat

16 0
yesterday

حسرتوں کا بوجھ اور رسمِ تعزیت

انسان کی بے حسی، المیہ اور زندگی کے آخری لمحات کا وہ سچ جو کفن کی تہوں میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا ہے ایک ایسا موضوع ہے جو روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ جب سانسوں کی ڈور ٹوٹتی ہے تو پیچھے صرف ایک خاموش وجود رہ جاتا ہے جس کی بند آنکھیں اور ساکت لب ان گنت رازوں، حسرتوں اور پکاروں کے امین ہوتے ہیں جنہیں دنیا والے کبھی نہیں سن پاتے۔ پسماندگان صرف روایتی کلمات ادا کرکے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جاتے ہیں لیکن اس رخصت ہونے والی روح کا اصل بوجھ کیا تھا اس کا ادراک کسی کو نہیں ہوتا۔

بندن میاں اجنبیت کی ایک ایسی چادر اوڑھے شہر کے قدیم ریلوے اسٹیشن کے آخری پلیٹ فارم پر بیٹھے تھے جہاں اب ریل گاڑیاں رکتی نہیں تھیں بلکہ صرف گزر جاتی تھیں بالکل اسی طرح جیسے زندگی انسان کے پاس ٹھہرنے کے بجائے اس کے سامنے سے گزر جاتی ہے اور وہ صرف ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ ان کے سامنے ایک پرانی شکستہ لکڑی کی بنچ تھی جس پر وقت کی دیمک نے اپنے گہرے نشانات چھوڑے تھے اور ان کے ہاتھ میں مٹی کا ایک کورا کلوت تھا جس سے اٹھتا ہوا دھواں فضا میں بکھر کر اپنی بساط کا اعلان کر رہا تھا مگر بندن میاں کی نظریں سامنے بکھرے ہوئے سوکھے پتوں پر ٹکی تھیں جنہیں ہوا کا ہر جھونکا ایک نئی سمت میں گھسیٹ کر لے جا رہا تھا۔

انہوں نے اپنی سفید گھنی بھنووں کے نیچے چمکتی ہوئی سنجیدہ آنکھوں کو تھوڑا سا سیکڑا اور اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی کو زمین پر ٹکاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا جو ان کے سینے کے اندر چھپے ہوئے کسی پرانے درد کی غمازی کر رہا تھا۔ انہوں نے مٹی کے برتن کو ایک طرف رکھا اور اپنے کرتے کی آستین کو الٹتے ہوئے اداسی سے زمین کو تکنے لگے جہاں موت اور زندگی کے اسرار ایک دوسرے میں گندھے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ ان کے ذہن میں یہ خیال گونج رہا تھا کہ انسان کی سب سے بڑی لغزش یہ ہے کہ وہ موت کو صرف ایک جسم کا ساکت ہو جانا سمجھتا ہے حالانکہ موت تو اس طویل خاموشی کا نقطہ آغاز ہے جس کے پیچھے ان گنت چیخیں اور پکاریں ہمیشہ کے لیے قید ہو جاتی ہیں۔

شہر کے مضافات میں مٹی کا ایک نیا ڈھیر نمودار ہوا تھا جہاں چند لمحے پہلے ایک وجود کو منوں مٹی تلے دبا دیا گیا تھا اور لوگ اپنے کپڑوں سے گرد جھاڑتے ہوئے واپس لوٹ رہے تھے۔ بندن میاں بھی اسی ہجوم کے ایک کونے میں خاموش کھڑے اس منظر کو دیکھ رہے تھے جہاں رخصت ہونے والے کے قریبی عزیز نہایت تندہی سے اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيُهِ رَاجِعُوُنَ پڑھ رہے تھے اور ان کے چہروں پر ایک ایسی مصلحت آمیز سنجیدگی تھی جو صرف رسم دنیا نبھانے کے لیے ادھار لی جاتی ہے۔

بندن میاں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ دو لفظی تسلی کتنی آسان ہے جو زبان سے ادا ہوتے ہی انسان کو ہر اس قرض سے سبکدوش کر دیتی ہے جو اس کا اس مرنے والے پر واجب تھا لیکن اس چادر کے نیچے جو آخری ہچکی دبی تھی اس کا حساب کتاب کون کرے گا۔ مرنے والے نے جب آخری بار اپنی بند ہوتی ہوئی آنکھوں سے کمرے کی چھت کو تکا ہوگا تو اس کے ذہن کے پردے پر کتنے چہرے ابھرے ہوں گے اس نے کتنے ایسے نام لیے ہوں گے جو اس کی زندگی کا حاصل تھے مگر وہ نام لبوں تک آتے آتے حلق کے........

© Daily Urdu (Blogs)