Kaghazi Karvai Aur Phd Scholar Ka Zehni Karb
کاغذی کاروائی اور پی ایچ ڈی اسکالر کا ذہنی کرب
یونیورسٹیوں کو علم، تحقیق اور تخلیق کے مراکز کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں سے معاشرے کے مستقبل کے رہنما، مفکر اور محقق تیار ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اکثر دیکھا گیا ہے کہ انہی علمی ایوانوں میں بعض اوقات طاقت، اختیار اور عہدے کو برتری، حکم چلانے اور تکبر کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ علم کے ایوانوں میں انسان نہیں بلکہ "نام کے فرعون" بیٹھے ہوں، جو اپنی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری کے ذریعے دوسروں کو اذیت پہنچاتے ہیں۔
پی ایچ ڈی کا سفر بذات خود ایک طویل اور کٹھن عمل ہے۔ یہ محض علمی محنت نہیں بلکہ صبر، استقامت اور ذہنی پختگی کا امتحان بھی ہے۔ ایک طالب علم جووقت اپنی تحقیق، مطالعہ اور علمی تنقید میں گزارتا ہے۔ ہر تجربہ، ہر تجزیہ اور ہر نتیجہ انسانی سوچ اور محنت کا آئینہ ہوتا ہے۔ لیکن تحقیق کے اس علمی دباؤ کے باوجود، میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میری پی ایچ ڈی کے تین سالہ سفرنے مجھے اتنا ذہنی اذیت میں نہیں ڈالا جتنا اس کے ساتھ جڑی کاغذی کاروائی نے آخر میں........
