Aurat Ko Pehle Insan Samjha Jaye
عورت کو پہلے انسان سمجھا جائے
جب بھی عورت کے حقوق، اس کی آزادی، تعلیم، ملازمت یا گھریلو ذمہ داریوں پر گفتگو ہوتی ہے تو ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سا رویہ سامنے آتا ہے۔ عورت کو کبھی "قربانی کی مورتی" بنا دیا جاتا ہے، کبھی "گھر کی عزت" کا بوجھ اس کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے اور کبھی اسے صرف ایک ایسی ہستی سمجھ لیا جاتا ہے جس کا کام دوسروں کی خدمت کرنا ہے۔ ان تمام شناختوں کے درمیان ایک بنیادی حقیقت کہیں گم ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہ عورت سب سے پہلے ایک انسان ہے۔
انسان ہونے کے ناطے اس کے بھی احساسات ہیں، خواب ہیں، خواہشات ہیں، صلاحیتیں ہیں اور سب سے بڑھ کر عزتِ نفس ہے۔ وہ بھی تھکتی ہے، وہ بھی بیمار ہوتی ہے، وہ بھی ذہنی دباؤ محسوس کرتی ہے اور اسے بھی محبت، احترام اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں عورت سے اکثر یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ ہر حال میں برداشت کرے، خاموش رہے اور اپنی ذات کو دوسروں کی خوشی کے لیے قربان کرتی رہے۔
میری اپنی زندگی کا ایک خوبصورت تجربہ اس سوچ سے مختلف ہے۔ مجھ سے بڑے میرے دونوں بھائی کھانا بنانا جانتے ہیں۔ اگر گھر میں ضرورت ہو تو وہ باورچی خانے میں میرے ساتھ کام کرتے ہیں۔ کبھی چائے بنا........
