menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Social Worker Ya Samaji Karkun

20 0
28.08.2026

سوشل ورکر یا سماجی کارکن

کہتے ہیں کہ انسان ہونا ہمارا انتحاب نہیں یہ تو قدرت کی عطا ہے مگر اپنے اندر انسانیت کو زندہ رکھنا یہ ہمارا اصل انتخاب اور کردار ہے۔ قدرت ہمیں انسان بناتی ہے لیکن ہمارئے کردار، رویے اور عمل ہی یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم حقیقتاََ انسان بھی ہیں؟ ہمارئے ہر عمل اور ہماری نیتوں کو خدا دیکھ رہا ہے اور جانتا بھی ہے۔ انسانیت کو زندہ رکھنے سے یہی مراد ہے کہ ہم اپنی سوچ اور عمل سے لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنانے کی کوشش کریں۔ گذشتہ روز مجھ سے ایک دوست نے سوشل ورکر یا سماجی کارکن کی تعریف پوچھی تو مجھے اباجی اور ہمارئے مرحوم دوست محمد اکرم لنگاہ کی گفتگو یاد آگئی۔ اباجی کہنے لگے ببھلا بتاو! آپ کی زندگی سے کتنے لوگوں کو آسانی ملتی ہے؟ جی ہاں! مرحوم اکرم لنگاہ اباجی کے ان چند جانثار ورکرز میں شامل تھا جو چوبیس گھنٹے اپنی ذات کو سماجی خدمت کے لیے وقف کرچکے تھے۔ اس کے ذمے تمام بھاگ دوڑ کے کام ہوا کرتے تھے۔

محمد اکرم لنگاہ مرحوم محلہ فتانی احمدپورشرقیہ کا ایک درد دل رکھنے والا انسان تھا اپنی کمزور بینائی اور کمزور مالی حالات کے باوجود اس کا خدمت انسانیت کا جذبہ بڑا بلند تھا۔ میرئے سے دوستی کی وجہ سے وہ ہمارئے اباجی سے متعارف ہوا۔ خدمت خلق کے جذبے سے سرشار اس نوجوان نے ایک دن اباجی سے پوچھا کہ خان صاحب! میں ایک بہت غریب آدمی ہوں عیال دار اور بےروزگار ہوں۔ آپ ہمیں خدمت خلق اور سوشل ورک کے لیے ہدایت کرتے ہیں تو مین سوچتا ہوں کہ ان تنگ مالی حالات میں لوگوں کی بھلائی کے لیے کیا اور کیسے کچھ کر سکتا ہوں؟

اباجی نے اسے کہا کہ اکرم لنگاہ صاحب بھلا سوشل ورک کے لیے مالی طور پر بہتر ہونا کب ضروری ہے؟ آپ نے وہ مثال تو سنی ہوگی کہ "ڈوبتے کو تنکے کا سہارا " تو اگر آپ کسی ڈوبتی ہوئی چیونٹی کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ایک تنکےکا سہارا دئے دیں تو یہ بھی سوشل ورک اور خدمت خلق ہوگا۔ کسی راستے سے پڑئے ہوئے کانٹے یا پتھر ہی........

© Daily Urdu (Blogs)