menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mian Muhammad Younas, Aik Mukhlis Insan Ki Rukhsati Ka Dukh

31 0
17.08.2026

میاں محمد یونس، ایک مخلص انسان کی رخصتی کا دکھ

یہ ہمارے اباجی کی زندگی کے آخری دنوں کی بات ہے جب وہ چل پھر بھی نہیں سکتے تھے۔ میں وہاڑی سے چھٹی پر ان کے پاس آیا ہوا تھا۔ ایک دن میں نے پوچھا اباجی آپ گھر سے باہر نہیں نکلتے کیوں نہ آج اپنی گاڑی میں بٹھا کر باہر گھما لاوں؟ تو وہ کہنے لگے ضرور میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ میں انہیں فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر شہر کی جانب چلا تو کہنے لگے مجھے دو آدمیوں سے ملنا ہے ان کے پاس لے چلو تو میں پوچھا وہ کون ہیں تو فرمایا ایک تو میاں محمد یونس اور دوسرے محمد سعید سلیمی ہیں میں نے پوچھا اباجی کوئی ان سے کام ہے یا بات کرنی ہے؟ تو کہنے لگے نہیں انہیں صرف دیکھنا ہے ان کی صورت میں مجھے اپنے پرانے دوست نظر آتے ہیں۔

مجھے معلوم تھا کہ یہ دونوں اباجی کے بہت قریبی اور پرانے دوستوں کے فرزند ہیں۔ ہم نے سعید سلیمی صاحب کی دوکان کے سامنے گاڑی روکی تو سعید سلیمی دوڑ کر گاڑی کے اباجی کے قریب آکر روائتی ادب سے ملے اور پھر میاں محمد یونس کے گھر کے سامنے گاڑی روکی تو میاں صاحب نے بھی ان کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ کہنے لگے میں اب دعائیں ہی دے سکتا ہوں کہ اللہ تمہیں اپنے والد کے نقش قدم پر یوں ہی چلتے رہنے کی توفیق عطا فرماے۔ اباجی کی وفات کے بعد میری ملازمت کی مصروفیات کی وجہ سے میرے بھائی اور بیٹے کا تعلق تو ان سے بہت رہا مگر میری ملاقات کبھی کبھار ہوتی تو وہ ہمیشہ یہ دوہراتے کہ میں نے سب کچھ آپ کے اباجی سے سیکھا ہے۔ ہمارے اباجی کی ان کی شخصیت سے نسبت بھی میرے لیے باعثِ فخر رہی ہے۔

گذشتہ روز احمدپور شرقیہ میں میاں محمد یونس کی وفات افسوسناک خبر سنتے ہی مجھےاپنے اور ان کے والد مرحوم کی یاد آگئی میاں محمد یوسف مرحوم جو میاں کلاتھ ہاوس کی احمدپور شرقیہ میں ابتدا کرنے والی شخصیت تھے اور جنہوں نے شہر میں ایک باوقار تجارت کی بنیاد رکھ کر یہ ثابت کیا کہ تجارت صرف کاروبار نہیں عبادت اور خدمت بھی ہے۔ ان کی وضع داری، خلوص، سماجی خدمت کا جذبہ اور دکھی انسانیت سے محبت........

© Daily Urdu (Blogs)