Khamosh Qurbanion Ki Roshan Dastan
خاموش قربانیوں کی روشن داستان
کچھ لوگ اپنے نام سے اور کچھ لوگ اپنے خاندان، حسب نسب اور میراث سے پہچانے جاتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی قربانیوں، ایثار اور محبت سے لازوال تاریخ رقم کر جاتے ہیں۔ بےشک میری ماں انہی عظیم انسانوں میں سے ایک تھی۔ جس نے اپنی خواہشات کو خاموش کرکے ہماری مسکراہٹوں اور خوشیوں کو ہی اپنی کامیابی سمجھا۔ اپنے آپ کو بھول کر ہمیں سنوارا، جینا سکھایا اور برداشت، حوصلے وقربانی کا مطلب سمجھایا۔ ہمیں علم کی روشنی سے منور کیا اور مجھ جیسے نالائق کو بھی کتاب اور قلم سے عشق کرنا سکھایا وہ میری پہلی درس گاہ، میری طاقت، میری دعا اور میری زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت تھیں۔ وہ جب ایک اردو نظم "اک سارسوں کا قافلہ" اپنی پرسوز آواز میں ہمیں سناتیں تو آنکھوں سے آنسوں رواں ہو جاتے تھے۔
میں نے ان میں صبر کو مجسم، اعتماد کو کردار، سنجیدگی کو وقار اور خلوص کو مزاج بنتے دیکھا۔ وہ ایک درد بھرا ایسا دل رکھتی تھیں جو حسد سے پاک اور محبت، عفو ودرگزر اور انسانیت کے درد سے بھرا ہوا تھا۔ میں یہ جانتا ہوں کہ میں ان کی محبت، قربانی اور عظمت کا حق ان ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے کبھی ادا نہیں کر سکوں گا مگر عمر بھر خدا کا یہ شکر ضرور ادا کرتا رہوں گا کہ اس نے مجھے ان جیسی عظیم ماں کی کوکھ سے پیدا کیا اور ان کے پاک دودھ سے میرئے جسم کو جلا بخشی اور ان کی شفقت بھری گود سے پرورش پانے کی توفیق عطا فرمائی۔ ان کی تربیت نے جو سب بڑی خوبی مجھے عطا کی وہ کسی بھی صورت حوصلہ نہ ہارنا ہے۔
انہوں نے مجھے سکھایا کہ برداشت سے ناممکن کو ممکن کیسے بنایا جاتا ہے۔ ہار کر بھی کیسے جیتا جاتا ہے۔ ٹوٹ کر کیسے جڑا جاتا ہے۔ دنیا کو زیادتیوں کا جواب کب اور کیسے دیا جاتا ہے۔ یہ وہ ہستی تھی جس نے مجھے معاف کرنا سکھایا۔ دلیری اور بہادری کا سبق دیا اور خطرات سے کھیلنا سکھایا۔
مجھے یاد ہے کہ ہمارےگھر میں سانپ بہت نکل آتے تھے ایک رات سردی میں سحری کے لیے میری بیوی اٹھی تو واپس آکر مجھے بتایا کہ........
