menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Khwab Riyasat Ban Raha Tha

16 0
06.08.2026

جب خواب ریاست بن رہا تھا

قوموں کی تاریخ میں بعض اوقات چند دن صدیوں پر محیط جدوجہد کا نچوڑ بن جاتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے یکم اگست سے 14 اگست 1947ء تک کا عرصہ بھی ایسا ہی ایک فیصلہ کن دور تھا۔ یہ صرف چودہ دن نہیں تھے بلکہ وہ تاریخی لمحے تھے جن میں ایک عظیم سلطنت اپنے اختتام کو پہنچی، ایک نئی ریاست وجود میں آئی، کروڑوں انسانوں کی قسمت بدلی اور جنوبی ایشیا کی سیاست ہمیشہ کے لیے ایک نئے رخ پر گامزن ہوگئی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں آزادی کی تاریخ کو اکثر صرف 14 اگست کے جشن، ملی نغموں اور رسمی تقریبات تک محدود کر دیا جاتا ہے، حالانکہ آزادی کے ان آخری چودہ دنوں کا مطالعہ کیے بغیر نہ پاکستان کے قیام کو صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی ابتدائی مشکلات کا ادراک ممکن ہے۔

3 جون 1947ء کو وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیمِ ہند کا منصوبہ پیش کیا، جسے بعد ازاں برطانوی پارلیمنٹ نے Indian Independence Act 1947 کی صورت میں قانونی حیثیت عطا کی۔ اس قانون کے مطابق برطانوی اقتدار کا خاتمہ ہونا تھا اور برصغیر دو آزاد ریاستوں، پاکستان اور بھارت، میں تقسیم ہونا تھا۔ بظاہر یہ ایک آئینی کارروائی تھی، لیکن عملی سطح پر یہ جدید تاریخ کا سب سے بڑا انتظامی، سیاسی اور انسانی چیلنج ثابت ہوئی۔ اسٹینلے وولپرٹ اپنی کتاب Shameful Flight میں لکھتے ہیں کہ برطانیہ نے اقتدار کی منتقلی کی رفتار اس حد تک تیز کر دی کہ انتظامی تیاری اور عوامی تحفظ دونوں متاثر ہوئے۔ ان کے نزدیک تقسیم کی عجلت نے انسانی المیے کو مزید سنگین بنا دیا۔

یکم اگست 1947ء تک پاکستان کا قیام صرف دو ہفتے کی دوری پر تھا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ نئی ریاست کا بیشتر انتظامی ڈھانچہ ابھی تشکیل کے مراحل میں تھا۔ نہ مستقل دارالحکومت پوری طرح فعال تھا، نہ مرکزی سیکرٹریٹ، نہ اسٹیٹ بینک وجود میں آیا تھا اور نہ ہی پاکستان کی اپنی کرنسی جاری ہوئی تھی۔ متحدہ ہندوستان کے خزانے، فوج، ریل، ڈاک، ٹیلی گراف، اسلحہ، سرکاری عمارتوں، عدلیہ، سول سروس اور مالی وسائل کی تقسیم کا عمل جاری تھا۔ چودھری محمد علی، جو بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم بھی بنے، اپنی معروف کتاب The Emergence of Pakistan میں لکھتے ہیں کہ نئی ریاست کو سب سے پہلے ریاستی اداروں کی تخلیق کا امتحان درپیش تھا، کیونکہ آزادی کے ساتھ ہی اسے حکمرانی کی پوری ذمہ داری سنبھالنی تھی۔

ان دنوں دہلی، شملہ اور کراچی مسلسل سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ تقسیمِ ہند کونسل (Partition Council) روزانہ اجلاس منعقد کر رہی تھی۔ ہر اجلاس میں درجنوں پیچیدہ معاملات زیرِ بحث آتے۔ ریلوے کے انجن کس ریاست کو ملیں گے؟ فوجی یونٹ کس طرح تقسیم ہوں گے؟ سرکاری ملازمین کہاں جائیں گے؟ مالی ذخائر کی تقسیم کس تناسب سے ہوگی؟ یہ ایسے سوالات تھے جن کا تعلق صرف کاغذی فیصلوں سے نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی سے تھا۔

ادھر پنجاب اور بنگال کی فضا مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی تھی۔ ریڈکلف باؤنڈری کمیشن اپنی رپورٹ مکمل کر چکا تھا، لیکن اس کے نتائج کو خفیہ رکھا گیا۔ لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کا شہر، ان کا گاؤں یا ان کی زمین کس ملک کا حصہ بننے والی ہے۔ یہی غیر یقینی خوف میں بدل گئی۔ ایان ٹالبوٹ اپنی کتاب Pakistan: A Modern History میں لکھتے ہیں کہ اگست 1947ء کے ابتدائی دنوں میں ہی لاکھوں........

© Daily Urdu (Blogs)