Mohallay Ki Dadi Asghari
میرے محلے کے گھر چھوٹے تھے مگر یہاں کے باسیوں کے دل بڑے تھے۔ ہر کدورت سے پاک، ہر تعصب سے بالاتر، گلیاں تنگ تھیں مگر سوچیں کشادہ تھیں۔ اپنائیت کی وسعت اور خلوص کی خوشبو سے ہر وقت مہکتی رہتی تھیں۔ کوئی رشتے داری نہ تھی مگر محلہ داری سب پر بھاری تھی۔ مختلف مسالک کے لوگ رہا کرتے تھے مگر انسانیت سب کا ایمان تھا اور سب بلا شرکت غیر اس کے پیروکار تھے۔
محلہ کیا تھا ایک خاندان تھا۔ اگر کبھی کوئی ناخوشگواری ہو جاتی تو محلے کے بزرگ جن کی بات ٹالنے کی کوئی ہمت بھی نہیں کر سکتا تھا، آگے بڑھتے اور ایک ہی نشست میں سب گلے شکوے دور ہو جاتے اور پھر ایک دوسرے سے روٹھے باہم شیر و شکر ہو جاتے۔ یہ محلہ بھی آباد ہوتے وقت انجانوں کی بستی ہی ہوگا مگر بعد تو سب ایک جسم ایک جان یو گئے۔ اس محلے میں ایثار و قربانی، رواداری و محبت کی عجب عجب کہانیاں تھیں جن کے کردار اس دنیا کے لگتے ہی نہ تھے۔ ان میں ایک دادی صغری بھی تھیں۔
دادی اصغری ہماری گلی میں رہا کرتی تھیں مگر ان کے نام کا احترام کے اس درجے ہر فائز تھا جس کا اب میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جہاں سے گزر جاتیں جوان لڑکیاں اور بہوئیں اپنے برقعے اور دوپٹے سنبھالنے میں لگ جاتیں۔ جوانوں اور لڑکوں کے........
