menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Safar e Hijaz o Arab Se Aik Iqtibas

17 0
16.05.2026

سفرِ حجاز و عرب سے ایک اقتباس

مکہ سے مدینہ کے رستے میں منڈی لگتی تھی۔ اِس جگہ بعد میں ترکوں نے ریلوے اسٹیشن قائم کر دیا تھا۔ ابھی اُس کی عمارت کا کھنڈر یہاں موجود ہے۔ مَیں پہلی بار جب حجاز گیا تب اِس جگہ کو دیکھا تھا۔ یہ اچھا خاصا بڑا بازار تھا۔ جس میں بیریوں کے بہت سے درخت بھی تھے۔ اِن میں سے اب ایک آدھا موجود ہے۔ یہاں سے ایک رستہ جدہ کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا مدینہ کی طرف، تیسرا مکہ کی جانب اور چوتھا راستہ شام کو نکلتا ہے۔ یہاں پر ہی ایک بازار لگتا تھا جسے سو ق البنط کہتے تھے۔ یہ ایک چوراہا بن جاتا ہے جہاں سے شام، مکہ، مدینہ اور جدہ کی راہیں جدا ہو جاتی ہیں۔

ایک بار ہاشم اپنے تجارتی سلسلے میں یہاں سے گزرے اور بازار بنط میں پہنچے۔ قرب و جوار سے لوگ جمع ہو کر خرید و فروخت کر رہےتھے۔ اُنھوں نے دیکھا ایک معتبر اور خوبصورت خاتون بازار میں سب سے نمایاں طور خریدو فروخت میں مصروف ہے۔ اُس کے سر پر عمامہ بندھا ہے اور گلے میں سونے کی بھاری پتریوں کا ہار ہے۔ وہ بازار کے ایک مقام بلند پر مقیم تھی اور لوگوں کو اپنی اشیائے ضروری کی خرید و فروخت کے لئے حکم کرتی تھی۔ اُس کی آواز رعب دار تھی جس کے ذریعے اپنے ملازموں کو اشیا کی فروخت کے احکامات دے رہی تھی۔ بازار میں آئے ہوئے اکثر لوگ اُس وجیہہ خاتون کی طرف سے خرید و فروخت کر رہے تھے۔ اِس کے باوجود اُس کے چہرے پر نسوانی حُسن کا پرتو تھا مگر کاروبار کے معاملات میں اُس کے احکامات مَردوں کی طرح تھے۔ ہاشم بھی اُس کی طرف متوجہ ہوئے۔ اپنے کاروباری معاملات کو بھول کر دیر تک اُسے دیکھتے رہے۔ بڑی دقت نظری سے اُس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینے کے بعد لوگوں سے اُس کی نسبت پوچھا کہ یہ خاتون کون ہے، اِس کا نام کیا ہے؟ کس قبیلہ سے تعلق رکھتی ہے اور یہ بھی کہ بیوہ ہے یا صاحبِ شوہر ہے؟

لوگوں نے ہاشم کو بتایا کہ خاتون کا نام سلمیٰ بنتِ عمرو ہے۔ قبیلہ بنی خزرج سے تعلق رکھتی ہے اور آزادہے۔ کسی کے نکاح میں نہیں ہے۔ اِس کے قبیلے کی شاخ نجار ہے۔

اِس کا نکاح ایک شخص سے ہوا تھا جس کا نام اجنجہ بن جلاح تھا۔ اُس شخص سے اِس کے دو بیٹے ہوئے۔ اُن کے نام عمر اور معبد تھے۔ ابنِ جلاح سے خاتون کی شادی قائم نہیں رہ سکی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں کی شخصیت اور وقار میں بہت فرق تھا۔ ابنِ جلاح کی طرف سے اِس خاتون کی کفالت اور عز و شرف میں کوتاہی تھی لہذا سلمیٰ نے اُس سے طلاق لے لی۔ اب یہ اپنے ذاتی شرافت و نجابت کے سبب کسی مرد سے اس وقت تک نکاح........

© Daily Urdu (Blogs)