Basti
ہمارے گائوں سے ایک کلومیٹر جنوب کی طرف ریت کے ٹیلے تھے اور ایک کلومیٹر تک ہی پھیلے ہوئے تھے۔ یہاں صرف ریت نہیں تھی۔ بلکہ چھوٹی موٹی پانی کی کئی جھیلیں تھیں، جن کے اندر مختلف پرندے ہر وقت تیرتے تھے۔ ریت پر ہزاروں قسم کی جڑی بوٹیاں اُگی ہوئی تھی۔ یہ کوئی صحرا نہیں تھا بلکہ دریا کے گزرنے سے ریت کا ایک میدان سا بن گیا تھا۔ ذرا سا نیچے سے ریت ہٹاتے تھے تو ٹھنڈا پانی نکل آتا۔ ہم یہاں بہت کھیلا کرتے تھے۔ کبھی جھیلوں میں داخل ہو کر پرندوں کا شکار کرنے لگتے اور کبھی خرگوشوں اور دوسری بلیات کو پکڑنے کی کوشش کرتے۔
یہاں ہزاروں عک کے پودے بھی تھے جن کی جڑیں ریت میں دور تک پھیلی ہوتی تھیں۔ ہم اِن عک کے پودوں کی جڑوں کو ریت میں سے نکال کر ایندھن کے طور پر لے جاتے جو بہت جلتے تھے۔ گائوں میں تو ویسے بھی لکڑی یا پاتھیاں استعمال ہوتی تھیں۔ ہم اِن پودوں کی جڑوں کو لکڑی کے طور پر اکٹھا کرتے۔ صحرا ایک قسم کا ٹھنڈا اور پانی سے بھرا پُرا تھا۔........
