اِقلیمِ ادب کی ملکہ…… بلقیس ریاض (1)
دستخط ایجاد ہونے کی کہانی عجیب ہے جب پہلی بار کسی بڑے آدمی نے کہیں دوسرے بڑے آدمی کو زبان دی اور زبان سے پِھر گیا تو یہ سوچا گیا کہ کوئی نشان، کوئی علامت، کوئی اشارہ ہو یوں بات زبان سے چلتے چلتے ہاتھ کی انگلیوں کے وثوق تک آن پہنچی۔ اکیسویں صدی کے ربعِ ثانی کے جس عہد میں ہم سانس لے رہے ہیں اِس میں تو دس انگلیاں کڑاہی میں ہونے کی بجائے بائیو میٹرک مشین پر شناخت کا سب سے بڑا سورس (Source) ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو زندگی کا شاہِ سلیمان بننے کے لئے ہر مرد کو ملکہ کے دستخط کی ضرورت ہوتی ہے۔ رسمِ آبادی کے لئے منگنی پیغام رسانی، وثیقہ نویسی کے ہدہد کی آمدورفت کے بعد شاہِ سلیمان (ہونے والا) جب اپنے لاؤ لشکر کے ہمراہ تخت نشیں ہوتا ہے تو گلشن کا کاروبار آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک کہ نکاح کار ملکہ سے دستخط نہ کروالے۔ تخت نشین دولہا کو پردہ نشین ملکہ اپنے دستخطوں سے بادشاہ بناتی ہے۔ ملکہ کی یہی بادشاہ گری آئندہ بائیو مرج (Bio Merge) زندگی کی شناخت بن کر اُبھرتی ہے۔
بلقیس ریاض جو ملکِ ادب کی ملکہ سبا ہیں اُن کے پاس میں نے اپنا ہد ہد (پیغام رساں) بھیجا۔ اُن کی سلطنت میں ساٹھ (60) کتابوں کی ایک مملکت ہے ہر فن پارہ ایک ریاست ہے۔ ناول ”اِک محبت اور“ نے تو ریاست مقدونیہ کی طرح چار دانگ عالم میں اپنے پھر یرے لہرائے ہوئے ہیں۔ اُن کی اقلیمِ سخن میں پرکھ، سچی کہانیاں، دل اور دیوار، حادثے، مہوش، ساحل سے ساحل تک اور ”دھندلا پیکر“ جیسی اچھوتی تحریریں........
