ستمبر۔۔خوشی سے غم تک کا سفر
ویسے تو ہر مہینہ اپنے اپنے لحاظ سے دوسرے مہینوں سے مختلف ہوتا ہے،کیونکہ ہر مہینے کے دامن میں بے شمار واقعات، تذکرے، کہانیاں، سچائیاں اور یادیں چھپی ہوتی ہیں۔ یہ زندگی ہے میاں! جہاں رنگ و بو بھی ہے، بہار بھی ہے، خزاں بھی ہے اور بت کدہ صفات بھی۔ انسان وہ بھی حضرتِ انسان، جس کی زندگی خوشی اور غم، وصل اور فراق، امید اور مایوسی، ہنسی اور آنسوؤں کے درمیان مسلسل سفر کا نام ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے:
پیار دی کہانی لوکو کتھے آ کے مک گئی
ہاسیاں توں شروع ہوئی، ہنجواں تے مک گئی
واقعی شادیانے سے شروع ہونے والی بہت سی کہانیاں آنسوؤں کی جھڑی پر آ کر ختم ہوتی ہیں۔ پنجاب کی دھرتی، پنجاب کا معاشرتی مزاج اور ”مکانوں“ کا کلچر بھی اسی انسانی زندگی کا ایک خوبصورت مگر پیچیدہ حوالہ ہے۔ کلچر کی گود میں بھی طرح طرح کی چیزیں جنم لیتی ہیں، وقت کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، ایک روایت دوسری روایت کو جنم دیتی ہے۔ قیامت کب برپا ہوگی، اس کا علم صرف نیلی چھت والے، اس لامحدود ذات کو ہے جو اللہ رب العزت ہے۔
اللہ کے راز اور اللہ کے بھید سوہنا رب ہی جانتا ہے۔ ہماری سوچ محدود ہے، ہماری رسائی محدود ہے اور ہم ہر لحاظ سے محدود ہیں۔لامحدود ذات اور لامحدود صفات صرف اللہ رب العزت کی ہیں۔ اسے جاننے اور پہچاننے میں پوری پوری زندگی گزر جاتی ہے اور پھر بھی انسان اس کی معرفت کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ انسان اپنی محدودیت کے باعث خسارے میں رہتا ہے اور جو اس حقیقت کو کسی حد تک جان لیتے ہیں، ان پر ایک عجیب سی خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ بقول پیر مہر علی شاہؒ:
”کوئی........
