کینیڈا کی بیورو کریسی اور ہمارا دفتری نظام
پنجاب اور پاکستان کے دفتری نظام سے شناسائی رکھنے والے میرے جیسے صحافتی طالب علم کے لئے کینیڈا آ کر سب سے زیادہ دلچسپی یہاں کے بیورو کریٹک سسٹم میں ہے،پنجاب میں سرکاری دفتر، افسر، کلرک، فائل، سفارش، درخواست اور بار بار دفتر ی چکر ہماری انتظامی زندگی کا ایک پرانا حصہ ہے جبکہ کینیڈا میں ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کی نوعیت خاصی مختلف دکھائی دیتی ہے، یہاں بھی بیورو کریسی موجود، افسر اور قوانین بھی ہیں، فائلیں بھی بنتی ہیں اور بعض اوقات کام میں تاخیر بھی ہوتی ہے، لیکن بنیادی فرق یہ ہے کہ یہاں نظام کسی ایک افسر کی صوابدید پر دکھائی دینے کی بجائے قواعد، مقررہ طریقہ کار، ڈیجیٹل سروسز اور جواب دہی کے قابلِ پیمائش معیار کے گرد گھومتا ہے۔کینیڈا کے دفتری نظام کو سمجھنے کے لئے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ عام شہری کا سرکاری محکموں سے واسطہ کہاں کہاں پڑتا ہے، وفاقی سطح پر کینیڈا ریونیو ایجنسی کا محکمہ، ٹیکس، ریفنڈ، ٹیکس کریڈٹس اور متعدد مالی معاملات دیکھتا ہے، سروس کینیڈا کہلانے والا محکمہ، سوشل انشورنس نمبر، پنشن، ایمپلائنٹ انشورنس اور مختلف وفاقی فوائد کے لئے اہم رابطہ ہے، جبکہ امیگریشن،ریفیوجی اور سٹیزن شپ کینیڈا کے نام والا محکمہ، امیگریشن، شہریت اور پاسپورٹ سے متعلق معاملات دیکھتا ہے، اسی طرح کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی سرحدی معاملات سنبھالتی ہے،اس کے علاوہ صوبائی حکومتیں صحت، تعلیم،ڈرائیونگ لائسنس، گاڑیوں کی رجسٹریشن، ہاؤسنگ اور دیگر خدمات فراہم کرتی ہیں، جبکہ میونسپل حکومتیں پراپرٹی ٹیکس، بلڈنگ پرمٹ، زوننگ، کچرے، سڑکوں، پارکس اور مقامی سہولتوں سے متعلق کام کرتی ہیں،یعنی ایک عام کینیڈین شہری کی روزمرہ زندگی میں حکومت ہر جگہ موجود ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ شہری کو اکثر یہ محسوس........
