menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

جھونپڑی سے نوبل انعام تک

22 0
18.09.2026

کاتالین کاریکو 1955 ء میں ہنگری کے شہر سولنوک میں پیدا ہوئی اور ایک چھوٹے قصبے کیش اُوسالاش میں پلی بڑھی۔ اس کے والد قصاب اور والدہ حساب کتاب کا کام کرتی تھیں۔ خاندان مٹی اور بھوسے سے بنے سادہ گھر میں رہتا تھا جہاں نلکے کا پانی، ریفریجریٹر اور ٹیلی وژن بھی نہیں تھا۔ پینے کا پانی گلی کے مشترکہ نل سے لانا پڑتا اور گرمیوں میں کھانے کی چیزیں ٹھنڈی رکھنے کے لیے کنویں کے قریب لٹکائی جاتیں۔ گھر کے قریب پودے، مرغیاں اور دوسرے جانور تھے۔ اپنے والد کو کام کرتے دیکھ کر اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا کہ جاندار جسم کے اندر زندگی کیسے کام کرتی ہے؟ اسکول میں اسے ایسے استاد ملے جو تیار جواب دینے کے بجائے سوال اٹھانا سکھاتے تھے۔ آٹھویں جماعت میں وہ ہنگری کے ایک قومی حیاتیاتی مقابلے میں تیسرے مقام تک پہنچ گئی۔

اس نے یونیورسٹی آف سیگڈ سے بایوکیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی اور آر این اے(RNA) نامی مالیکیول پر تحقیق شروع کی۔ انسانی جسم کو ایک پیچیدہ کارخانہ سمجھا جائے تو ڈی این اے اس کا بنیادی نقشہ ہے، جب کہ میسنجر آر این اے، یعنی ایم آر این اے(MRNA)، اس نقشے سے عارضی ہدایت لے کر خلیے کو مطلوبہ پروٹین بنانے کا پیغام دیتا ہے۔ کاریکو کا خیال تھا کہ اگر تجربہ گاہ میں تیار کردہ ایم آر این اے کے ذریعے انسانی خلیوں کو مفید پروٹین بنانے کی ہدایت دی جا سکے تو بہت سی بیماریوں کے علاج اور ویکسینوں کی تیاری کا نیا راستہ کھل سکتا ہے۔

خیال غیرمعمولی تھا، مگررکاوٹیں بھی بے شمار تھیں۔ ایم آر این اے بہت نازک ہوتا، جسم میں جلد ٹوٹ جاتا اور بعض اوقات مدافعتی نظام........

© Daily Pakistan (Urdu)