menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

گنجے، بھلے چنگے اور بھکھ منگے

27 0
16.09.2026

گنجے ہونے سے قبل بھی وہ کوئی فلمی ہیرو نہیں تھے۔ ایسا نہیں تھا,ان کے حسن کی مثالیں دی جاتی ہوں  لیکن وہ زیرو بھی نہیں تھے۔ اچھے خاصے معقول صورت انسان تھے۔ گنجے کیا ہوئے، اکثریت کو بھکھ منگے لگنے لگے۔ اک آدھ بے تکلف دوست کو، تو لفنگے لگنے لگے، پتنگے لگنے لگے۔ گنجے ہونے کے بعد ان کی دنیا تو سیدھی رہی، نام مگر الٹا پڑ گیا، بلکہ کئی الٹے نام پڑ گئے۔ کسی نے انہیں کچھ کہا، تو کسی نے کچھ۔ وہ ہنس دیتے، کچھ نہ کہتے، اگر ان کی غیر موجودگی میں کوئی دوست انہیں گنجے ہونے کی وجہ سے کسی الٹے نام سے پکارتا لیکن ان کی موجودگی میں  وہ نام لینے کی جُرائت نہ کرتا، تو وہ خود اسے بڑھاوا دیتے۔ ہنس کر کہتے، ”پیٹھ پیچھے کہتے ہو، منہ پر بھی کہہ لو۔“ دیہاتی پس منظر تھا۔ دیہات میں لوگ ویسے بھی اک دوجے کے صفاتی نام لینے کے شوقین ہوتے ہیں۔ بندہ اپنے اصلی نام کی بجائے کام، ذات، رنگ اور دام کی وجہ سے ملنے والے نام سے زیادہ پہچانا جاتا ہے۔ چال سے چلن ٹپکے نہ ٹپکے، نام سے چال چلن ضرور ٹپکتا ہے۔ چار سو جس نام کا ڈنکا بجتا ہے، وہ اصلی نام نہیں ہوتا۔ بعض اوقات تو کسی ایسے نام کے اتنے چرچے ہوتے ہیں، بندہ خود بھی اپنا اصلی نام بھول جاتا ہے۔ انہیں اپنا اصل نام سدا یاد رہا، گنجے ہونے کے بعد بھی یاد رہا۔ صاحبِ حیثیت آدمی تھے، جب چاہتے ہیئر ٹرانسپلانٹ کروا سکتے تھے، مگر انہوں نے صورتِ حال کا لطف لیا، گرچہ صورتِ حال........

© Daily Pakistan (Urdu)