یہ اے آئی کیا بلا ہے؟
ڈیجیٹل انقلاب نے سب کچھ ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مرحوم احمد ندیم قاسمی یاد آتے ہیں جنہوں نے پتھر کے عنوان سے نظم لکھی تھی اور مصرع دیا تھا کہ ’مرا ذہن رسا بھی پتھر،……یہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک اور شاعر نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ
ندیم و فیض، فراق و فراز کچھ بھی نہیں
نئے زمانے میں ان کا جواز کچھ بھی نہیں
کل ہی ایک دوست بتارہے تھے کہ ایک کتب میلے میں چھ ہزار چائے کے کپ، پانچ ہزار چپس کے پیکٹ اور دو سو تیس کتابیں فروخت ہوئیں۔ چنانچہ صورت حال جس جس انداز میں پلٹے کھارہی ہے اس پر سوائے حیرت کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ایک شاعری ہی کیا، موسیقی بھی اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ نوے کی دہائی میں ابھرنے والے موسیقی کے ستارے نئی دہائی کے آغاز سے ہی ٹمٹمانے لگے ہیں۔ ان سے پہلوں کی تو بات ہی الگ ہے کہ انہیں تو شائد ان کے اپنے گھر والے بھی جم کر نہیں سنتے ہوں گے۔ اب اے آئی کا زمانہ ہے، آپ بس ایک کمانڈ دیجئے، اے آئی آپ کو میوزک بھی کمپوز کردے گی اور شاعری کو آواز بھی دے دے گی۔ جب کبھی یو ٹیوب پر کوئی دھن اچھی لگتی ہے اور آس پاس بیٹھی ہوئی GenZمسکرانے لگتی ہے کہ یہ تو اے آئی ہے۔ ابھی گزشتہ شام ہی بیگم نے حیرت سے پوچھا کہ........
