menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

16 0
tuesday

مجھے اس وقت سخت کوفت ہوتی ہے جب میں میڈیا پر کوئی ایسی خبر دیکھتا ہوں کہ لوگ اپنے پیارے کی نعش سڑک پر رکھ کر احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں میں مرنے والے کی مائیں، بہنیں، بھائی اور دیگر عزیز و اقارب بھی ہوتے ہیں۔ یہ احتجاج وہ کس لئے کررہے ہوتے ہیں، اس کے بارے میں آنکھیں بند کرکے بتایا جا سکتا ہے، وہ پولیس کی بے حسی اور جانبدارانہ رویے پر سراپا احتجاج ہوتے ہیں جو یا تو ایف آئی آر درج کرنے میں تساہل سے کام لیتی ہے یا پھر سامنے موجود ملزموں کو پکڑتی نہیں۔ ایسا ہی احتجاج چوک حرم گیٹ ملتان پر دو دن پہلے ہوا تو سوشل میڈیا اور مختلف چینلز پر اس کی ویڈیو چلتی رہی۔ نوجوان کی جوان بہنیں اور ماں باپ نوحہ کناں تھے کہ پولیس والے ملزموں کا ساتھ دیتے رہے اور انہیں تھانے سے بُرا بھلا کہہ کر نکال دیا گیا۔ جب کافی دیر ٹریفک جام رہتی ہے، شورشرابا شروع ہو جاتا ہے تو متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او چند کانسٹیبلوں کے ساتھ آتا ہے۔ لواحقین سے مذاکرات کرتا ہے، انہیں یقین دلاتا ہے کہ انصاف کیا جائے۔ حرم گیٹ میں ورثاء نے نوجوان کی نعش رکھ کر جو احتجاج کیا، وہ تھانے سے صرف چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ پولیس کا اتنی دیر بعد آنا اس بات کی گواہی تھی کہ اسے احتجاج کی کچھ زیادہ پرواہ نہیں ہوتی، جب احتجاج کرنے والے ایس ایچ او کی بات نہیں سنتے تو ڈی ایس پی کو بھیجا جاتا ہے۔  جب اس سے بھی بات نہیں بنتی تو کوئی ایس پی رینک کا افسر........

© Daily Pakistan (Urdu)