جناب ٹرمپ! آپ اپنی اداؤں پر غور کریں!
آتش و آہن کا کھیل جاری ہے یہ کھیل انسانی ٹکراؤ کے بغیر نئے آتشی ہتھیاروں سے کھیلا جا رہا ہے،ابھی تک کسی محاذ پر بھی پیدل افواج کا ٹکراؤ نہیں ہوا۔بجز اس کے کہ غزہ اور لبنان میں صہیونی افواج نے قدم رکھے کہ دنیاوی لحاظ سے طاقتوروں کا کمزوروں پر حملہ تھا، لبنان میں تاحال حزب اللہ مقابلہ کر رہی ہے لیکن غزہ میں حماس خاموش ہے اور اس معاہدہ کی پابندی کر رہی ہے جو امریکی صدر کے توسط سے ہوا تاہم اسرائیلی خود کو اس سے بھی ”مبرا“ جانتے اور وقتاً فوقتاً نہتے اور بے آسرا فلسطینیوں کو شہید کرتے رہتے ہیں۔دنیا پہلے کی طرح اس ظلم پر خاموش ہے، فلسطینی کھلے آسمان تلے یا برباد گھروں کے بچے کھچے ڈھانچے میں پناہ لئے ہوئے موسم کی سختیوں کا بھی مقابلہ کر رہے ہیں،ان تک عالمی امداد پہنچنے نہیں دی جاتی اور وہاں بھوک کا بھی ڈیرہ ہے۔
دنیا میں مجموعی طور پر انسانوں کی بھاری ترین اکثریت ان مظالم کی مخالف ہے وہ سب اَمن سے رہنا چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے نازی ذہنیت کے حامل برسر اقتدار حضرات اس خطہ ارض کو ختم کرنے کے در پے ہیں اور طاقت کے بل بوتے پر آج کے جدید دور میں بھی لوگوں کو غلام بنانے پر تلے بیٹھے ہیں، اِس وقت خلیج میں آگ برس رہی ہے،امریکہ اور اسرائیل نے باہم مل کر ایران پر مشترکہ حملہ کیا،آسمان سے بارود برسایا گیا، چند ماہ قبل ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر کے زمین دوز نظام کو برباد کر دیا گیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کی ایٹمی صلاحیت پر بی۔2 بمبار طیاروں کے ذریعے پانچ پانچ ہزار ٹن کے بم پھینک کر مضبوط تر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کا یہ محفوظ سلسلہ پہاڑوں کی تہہ میں تعمیر کیا گیا تھا۔ قارئین!ذرا غور کریں کہ امریکی الزام کے مطابق اگر ایران واقعی ایٹم بم بنانے کا عمل کر رہا ہوتا تو اِس حملے کے نتائج کیا ہوتے،تابکاری تو جو پھیلتی سو پھیلتی، ایران کا حال بھی ناگا ساکی اور ہیرو شیما والا ہوتا۔ایٹمی تابکاری سے پورا خطہ متاثر ہوتا لیکن ایسا نہ ہوا اور ایٹمی امور کی جانچ پڑتال والی ایجنسی نے بھی تصدیق کی کہ تابکاری کے اثرات محسوس نہیں کئے گئے۔یوں اِس حملے نے جہاں ایرانی تنصیبات اور مختلف عمارتوں کو تہ و بالا کیا وہاں یہ الزام بھی غلط ثابت ہو گیا کہ ایران ایٹم بم بنا رہا تھا۔یہاں ناکامی کے بعد توجہ افزودگی یورینیم کی طرف ہو گئی۔ایران نے اسے محفوظ ترین مقام پر منتقلی کا دعویٰ کیا تو امریکہ نے اسے حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ایران نے توانائی کی ضروریات کے لئے افزودہ یورینیم کی کم از کم مقدار رکھنے کا دعویٰ کیا،لیکن امریکہ ماننے کو تیار نہیں اور صدام کے دورِ اقتدار میں انسانی زندگی کے لئے خطرناک ترین ہتھیاروں کی موجودگی کے الزام کی طرح غلط ثابت ہو رہا ہے،اگر ایران حقیقتاً ایٹم بم بنانے کا اہل ہوتا تو یقینا اس کے ساتھ جو یکطرفہ سلوک کیا گیا اور کیا جا رہا ہے وہ بم تیار کر گذرتا بلکہ استعمال بھی کر لیتا،لیکن اب تک ایسا ہوا نہ ہی ایران نے کرنے کی بات کی،بلکہ ایرانی قیادت کی طرف سے ایٹمی اسلحہ نہ بنانے کا بار بار اعادہ کیا گیا،لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مصر ہیں۔
دنیا نے دیکھا کہ بعض دوست ممالک کی کوشش کے نتیجے میں عمان میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے،متعدد ادوار کے بعد بات معاہدہ کے قریب تر پہنچ گئی جس کا اعتراف خود امریکی صدر نے کیا اور مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا،لیکن کیا کیا جائے کہ خود امریکہ کی طرف سے معاہدہ کے قریب ہونے کا کھلا بیان دیا گیا۔توقع ظاہر کی گئی کہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں لیکن یہ بھی تو چال ہی ثابت ہوئی۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر اچانک ایران پر حملہ کر دیا۔اب اس واردات کو26 دن گذر چکے۔ایران کی قیادت یکے بعد دیگرے شہید کی گئی، حتیٰ کہ لاریجانی جیسے سیاسی راہنما کو بھی شہید کیا گیا جو نہایت تجربہ کار اور اَمن کے حامی تھے لیکن غاصبانہ موقف کے سامنے وہ بھی ڈٹ گئے تھے یوں شہادت کے درجہ پر فائز کر دیئے گئے۔
قارئین کرام! اب پھر مذاکرات اور بات چیت کا غلغلہ ہے،اس میں ہمارے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم کی کاوشوں کا ذکر آ رہا ہے جو مصر اور ترکیہ کے ساتھ مل کر وزیراعظم نے اسلام آباد میں میزبانی کی پیشکش کی اور جنرل عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات بھی کی، ایسی گفتگو کو ظاہر نہیں کیا جاتا، لیکن حالات حاضرہ میں یہی تصور کیا جاتا ہے اور خطے میں اَمن کے لئے جنگ بندی کے حوالے سے مشاورت ہوئی ہو گی۔
خبریں عام ہوئیں تو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا وہ اعلان پانچ روز کے لئے موخر کر دیا جس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کی تمام توانائی والی صلاحیتوں پر حملے کر کے ان کو تہس نہس کرنے کا اعلان کیا تھا،اس کے جواب میں ایران اور خصوصی طور پر پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا کہ ایسا ہوا تو خلیج اور مشرق وسطیٰ کے پورے خطے میں موجود امریکی تنصیبات اور اسرائیل کے بجلی گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا اور یہ پورا خطہ ہی تاریک ہو جائے گا۔ یوں دعویٰ جواب دعویٰ کے بعد مذاکرات کی بات تک نوبت پہنچی،اندرونی سطح پر جو بھی ہو رہا وہ ظاہر نہیں ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور نیوز ایجنسی رائٹر کی خبر کو ملا کر دیکھا جائے تو بدنیتی اور بددیانتی، مکر و فریب کا سلسلہ صاف نظر آتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکہ ایران کی اعتدال پسند قیادت سے بات کر رہا ہے کہ یہ راہنما اور امریکہ مل کر ایران کا نظام چلا سکتے ہیں اور یہ رجیم چینج کا سلسلہ ہے دوسری طرف رائٹر کی خبر ہے کہ امریکہ والے ایرانی شوریٰ کے سپیکر سے بات کر رہے ہیں۔ سپیکر باقر نے کھلے بندوں اس کی تردید کی جبکہ جو حقائق سامنے آئے وہ یہ ہیں کہ فیلڈ مارشل سعودی عرب گئے۔ولی عہد محمد بن سلمان سے تفصیلی ملاقات اور بات کی، پھر واپس آئے، مشاورت ہوئی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات ہوئی اور مذاکرات کی بات سامنے آئی،اس عرصہ میں حکومت پاکستان نے اپنی سطح پر مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک سے بھی بات کی اور یہ امر بھی ظاہر ہے کہ اس میں مصر اور ترکیہ کی معاونت سو فی صد حاصل ہے اور سعودی عرب کا اعتماد بھی لیا گیا۔
اس تمام تر تفصیل کے بعد اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور بعض ایسی خبروں پر غور کیا جائے جو زیادہ سامنے نہیں ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو سے مل کر ایک بار پھر چکر دینا چاہتے ہیں۔خبر یہ ہے کہ امریکن میرینز کے دو دستے جو ایک بریگیڈ کے برابر ہیں،خاموشی سی آبنائے ہرمز کی طرف روانہ ہو گئے۔ مقصد ایران کے اس خارگ جزیرہ پر قبضہ کر کے ہرمز کو کھولنا ہے جو ایرانی تیل کی ترسیل کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جبکہ خود ٹرمپ کہتے ہیں،ایران افزودہ یورینیم ان کے حوالے کر دے اور پھر کبھی یورینیم حاصل نہ کرے۔یوں یہ سب واضح اور عقل مندوں کیلئے اشارے کے مترادف ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر اسرائیل کو ایک ریاست/ملک کے طور پر پورے خطے اور دنیا سے منوانا چاہتے ہیں۔اس میں ہمارا ملک بھی شامل ہے، جس کے بارے میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ”ہم تنے ہوئے رسے پر چل رہے ہیں“ اللہ سے دُعا ہی کی جا سکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی باتیں عجیب ہیں، ان کو ایران کے نظام کی سمجھ نہیں آئی، اس وقت اقتدار جس کے بھی پاس ہو لیکن آیت اللہ خمینی کے بنائے نظام کے تحت کنٹرول پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہے اور اگر ایران کو بھی غزہ بنانا اور بنوانا ہے تو پھر اللہ کی رضا؟
