menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

  *آزادی: مخمل میں لپٹی ہوئی اداسی* 

15 0
14.08.2025

آزادی کا لفظ کس قدر پہلو دار ہے۔ مخملیں، دل نشیں، اور کہیں کہیں حزیں۔یہ لفظ جب زبان سے نکلتا ہے تو ساتھ میں پرانی مٹی کی خوشبو لے آتا ہے۔ جیسے کسی صندوقچے میں بند خط۔ جس پر وقت کی مہریں لگی ہوں۔ ہر سال یہ لفظ اگست کے مہینے میں در و دیوار پر لپک جاتا ہے۔ کہیں پٹاخے، کہیں دھماکے، کہیں ناکے اور کہیں خاکے۔ جن میں کبھی رنگ بھرے جاتے ہیں اور کبھی خاک اْڑائی جاتی ہے۔ جیسے خوشی اور تشویش ایک ہی دھاگے سے بندھے ہوں۔صرف یہ دن نہیں بلکہ آزادی کے حوالے سے ہر لمحہ خوشی کا ہے۔ مگر ہمارے معاشرتی رویے اس خوشی کو کسی شوگر کوٹڈ دوا کی طرح بنا دیتے ہیں۔ اوپر سے میٹھا، اندر سے کڑوا۔ گلی کے نکڑ پر بیٹھا مزدور آج بھی روٹی کا حساب لگاتا ہے، اور اس کے کانوں میں آزادی کے نعرے محض شور بن کر گونجتے ہیں۔ وہ شور جو شہر کی بلندیوں پر نصب لاؤڈ اسپیکروں سے نکلتا ہے اور نیچے زمین پر تھکے ہوئے لوگوں کے خوابوں کو توڑ دیتا ہے۔ہم نے آزادی کو غباروں سے باندھ دیا ہے، جو تھوڑی دیر آسمان پر ناچنے کے بعد کسی بجلی کے تار سے الجھ کر پھٹ جاتے ہیں۔ ہم نے آزادی کو رنگین کپڑوں کی سیل میں رکھ دیا ہے۔ جہاں قیمت کا ٹیگ اس کے معنی سے بڑا ہو جاتا ہے۔ ہم نے آزادی کو ہارن بجاتی گاڑیوں، سیلفیوں، اور لائٹوں کی جھالر میں لپیٹ دیا ہے۔ مگر اس کے پسِ........

© Daily Pakistan (Urdu)