menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ایک بے چین اور باغی ذہن

25 0
19.08.2026

ایک بے چین اور باغی ذہن

پروفیسر امین مغل لندن میں انتقال کر گئے۔ وہ 1935ء میں پیدا ہوئے اور اگست 2026ء میں اکانوے برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کی زندگی کو اگر کسی ایک جملے میں سمونا ہو تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے وقت کے دھارے کے ساتھ خاموشی سے بہہ جانے والے انسان نہیں تھے، بلکہ اپنے وقت سے مسلسل سوال کرنے والے ایک بے چین اور باغی ذہن کا نام تھے۔انہوں نے اپنے تدریجی کیریئر کا آغاز اسلامیہ کالج سول لائنز، لاہور میں بحیثیتِ استادِ انگریزی کیا۔ لیکن ان کی علمی شناخت محض کلاس روم تک محدود نہیں تھی۔ وہ ایک ایسے دور میں جوان ہو رہے تھے جب نئی مملکتِ پاکستان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اس ارضِ پاک کو ایک منصفانہ، روشن اور باوقار معاشرہ کیسے بنایا جائے۔ نوجوانی کے ایام میں وہ مولانا مودودی کے افکار سے متاثر ہو کر اسلامی جمعیت طلبہ کے قریب آئے، حتیٰ کہ کچھ عرصے کے لیے امین حجازی کا نام بھی اختیار کیا۔ لیکن زندگی آگے بڑھی، مطالعے کا دائرہ پھیلا تو غلام احمد پرویز کے افکار اور پھر مارکس سے گہری شناسائی نے ان کے فکری سفر کو ایک نیا رخ دیا۔ جیسا کہ ابھرتے مورخ محمد حسن رائے اپنی تحقیق میں اس نکتہ پر روشنی ڈالتے ہیں کہ اس دور کی نوجوان نسل کے فکری راستے جامد نہیں تھے، بلکہ وہ حالات کے جبر اور مطالعے کے ارتقاء کے تحت اپنے زاویے بدل رہے تھے۔ امین مغل نے مارکسزم........

© Daily 92 Roznama