menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

معاشرے میں اجنبیت

12 0
previous day

مت ہمیں چھیڑ کہ ہم رنج اٹھانے کے نہیں زخم وہ دل پہ لگے ہیں کہ دکھانے کے نہیں اک نہ اک روز نکل آئے گا دیوار سے در ہم وہ خود سر ہیں کہ اب لوٹ کے جانے کے نہیں اس حوالے سے ایک اور شعر دیکھیے کہ سخن میں ہمارے رہبر کون ہیں یا ماڈل کون ہیں حافظ و غالب و اقبال سے محبت ہے ہمیں ہم وہی لوگ ہیں جو اپنے زمانے کے نہیں زمانے کی رو میں بہنا بہت آسان ہے اور مخالف چلیں تو چلنے نہیں دیا جاتا مگر بات تو پتے کی یہی ہے کہ بہائو کے خلاف پیراکی میں ہی پیراک کے جوہر کھلتے ہیں۔ ایسے ہی ایک شعر ذھن میں آ گیا نظر انداز کیا میں نے بھی اس دنیا کو اور دنیا نے بھی پھر قرض اتارے سارے اب مصیبت یہ ہے کہ جو لکھنے کے قابل ہو وہ ہو نہیں رہا اور جو ہو رہا ہے وہ لکھا نہیں جا سکتا کہ سرکار آڑھے ہاتھوں لیتی ہے ایک بات مجھے درد دل سے کہنی ہے کہ یہ جو اشرافیہ ہے ان کے پاس اربوں کھربوں کے اثاثے ہیں پھر بھی ان کی نظر عربوں پر رہتی ہے خیر یہ تو میں نے تفنن طبع کے تحت لکھ دیا کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ لوگ........

© Daily 92 Roznama