menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

پاکستان کا ٹی ٹی پی کے خلاف حق دفاع

10 0
latest

پاکستان کا ٹی ٹی پی کے خلاف حق دفاع

کبھی افغانستان کے پہاڑوں میں چلنے والی جنگ کو دنیا نے "آزادی کی جدوجہد" کا نام دیا تھا۔ پھر وقت نے کروٹ لی، انہی پہاڑوں سے ایسے گروہ نکلے جنہوں نے خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کو چیلنج کر دیا۔ دو دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ، لاکھوں جانوں کے ضیاع اور کھربوں ڈالر خرچ ہونے کے بعد جب افغان طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو دنیا کو امید تھی کہ شاید ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جا چکا ہوگا۔ لیکن پانچ برس گزرنے کے باوجود افغانستان آج ایسی تصویر پیش کر رہا ہے جس نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں یورپی یونین کے خصوصی نمائندے گیلز برٹرانڈ اور برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے نے کھل کر پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کی کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان بیانات کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ یہ دو بڑے بین الاقوامی فریقوں کی جانب سے آئے ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے پہلی مرتبہ نہایت واضح الفاظ میں پاکستان کے "حقِ دفاع" کو تسلیم کیا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو قیمت ادا کی ہے، شاید دنیا کے بہت کم ممالک نے ادا کی ہو۔ اسی ہزار سے زائد پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور........

© Daily 92 Roznama