menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

محدود وسائل کی بڑی روشنی کی کہانی

18 0
15.03.2026

محدود وسائل کی بڑی روشنی کی کہانی

رمضان آتا ہے تو ہمارے معاشرے میں زکوٰۃ وخیرات کی تقسیم کا جذبہ جاگتا ہے۔ مساجد آباد ہو جاتی ہیں، دسترخوان سج جاتے ہیں۔اس ساری فضا میں ایک سوال بار بار دل میں ابھرتا ہے کہ کیا وقتی مدد واقعی کسی کی زندگی بدل سکتی ہے؟ کچھ برس پہلے تک ہماری سوچ بھی دوسروں جیسی تھی۔ رمضان میں راشن کے تھیلے تیار ہوتے تھے، بیس پچیس خاندانوں تک وہ پہنچا دیے جاتے تھے۔ یقیناً اس سے وقتی آسودگی پیدا ہوتی تھی، لیکن چند ہفتوں بعد یہ خاندان دوبارہ اسی مشکل سے دوچار نظر آتے۔ اس احساس نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید مسئلے کا حل کچھ اور ہے۔ ہم انجینئر ٹاون کے پاس دستر خوان شروع کر چکے تھے، پھر تین سال پہلے ایک نیا راستہ کھلا۔ فیصلہ ہوا کہ اگر وسائل محدود ہیں تو بھی انہیں اس طرح استعمال کیا جائے کہ کسی کی زندگی میں دیرپا تبدیلی پیدا ہو۔ چنانچہ راشن کے بجائے بیروزگار افراد کو چھوٹا سا سرمایہ دے کر کوئی کام شروع کروانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس کار خیر کی بنیاد دراصل پندرہ برس پہلے رکھی گئی تھی جب بہن عارفہ نعیم نے برطانیہ میں بیٹھ کر "انسا فاؤنڈیشن یوکے" کے نام سے چند ضرورت مندوں کی مدد کا آغاز کیا تھا۔ ابتدا میں یہ کام بہت محدود پیمانے پر تھا، لیکن نیت سچی ہو تو دائرہ آہستہ آہستہ پھیلنے لگتا ہے۔حالیہ رمضان میں بھی حسب روایت چند چھوٹے مگر معنی خیز کام ہوئے۔ چند بیروزگار افراد کو روزگار شروع کرنے کے لیے سرمایہ دیا گیا۔ ایک بیمار شخص کو علاج کے دوران گھر کے اخراجات کے لیے تعاون فراہم کیا گیا۔ کچھ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کرنے میں ہاتھ بٹایا گیا۔ اسی طرح میرے ٹیکساس میں مقیم دوست افضل چودھری، ہارون ،ارمان اور ان کے کچھ دیگر ساتھیوں نے بھی تین سال پہلے ایک ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے "اپنا روزگار" کے نام سے ایک چھوٹا سا سلسلہ شروع کیا جس کا مقصد ہر ماہ کسی ایک بیروزگار کو تھوڑے سے سرمائے کے ساتھ کام شروع کرنے کا موقع دینا ہے۔رواں برس ممتاز دانشور اور فکری رہنماعلی جعفر زیدی صاحب نے ایک طالبہ کی سمسٹر فیس اور ایک ضرورت مند کو روزگار کے لئے فنڈز دئیے۔ رب کا کرم ہے کہ خیر بانٹنے والے جمع ہو رہے ہیں۔ اس کام کا طریقہ سادہ ہے کہ جس شخص میں محنت کرنے کی خواہش ہو، اسے ایک معمولی سا سرمایہ دیا جائے تاکہ وہ کوئی ہنر یا کاروبار شروع کر سکے۔ اس پروگرام کے نتیجے میں کئی چھوٹی چھوٹی کہانیاں وجود میں آئی ہیں۔ کوئی باورچی بن کر محلے میں کھانے کا ٹھیلا لگا رہا ہے، کوئی پھل بیچ کر اپنے بچوں کا خرچ اٹھا رہا ہے، کسی نے چائے کی چھوٹی سی دکان بنا لی ہے۔ کچھ لوگ پلمبر یا الیکٹریشن کے طور پر کام شروع کر چکے ہیں۔ ایک نوجوان موٹر سائیکل مکینک بن گیا۔ایک رکشہ چلا رہا ہے، چند بیوہ خواتین کو سلائی مشینیں دی گئیں اور اب وہ کپڑے سی کر گھر چلا رہی ہیں۔ ان لوگوں کی دعائیں سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ چھوٹا سا سرمایہ بھی کسی کی تقدیر کا رخ بدل سکتا ہے۔ انسا فاؤنڈیشن اور "اپنا روزگار" کے اس سفر میں ایک بات ہمیشہ طے رہی ہے کہ اس کام کو نمود و نمائش سے دور رکھا جائے۔ نہ بڑے بڑے بینر لگائے جاتے ہیں، نہ تشہیری مہم چلائی جاتی ہے۔ بس ایک سادہ سا ریکارڈ رکھا جاتا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ اصل مقصد یہ نہیں کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ ہم کیا کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جس کے گھر میں اندھیرا ہے وہاں ایک چراغ جل جائے۔ سماجی خدمت کے اس تجربے نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ خیرات اور روزگار میں بہت فرق ہے۔ خیرات وقتی سکون دیتی ہے، لیکن روزگار انسان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ جب کوئی شخص دو ہاتھوں کی کمائی سے اپنے بچوں کو کھانا کھلاتا ہے تو اس کے چہرے پر جو وقار آتا ہے، وہ کسی راشن کے تھیلے سے پیدا نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں فلاحی کاموں کا رخ آہستہ آہستہ "امداد" سے "بااختیار بنانے" کی طرف جا رہا ہے۔ مائیکرو فنانس اور چھوٹے قرضوں کے منصوبے اسی سوچ کی مثال ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اگر چھوٹے پیمانے پر یہ کام شروع ہو جائے تو ہزاروں خاندانوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔لاہور جیسے بڑے شہر میں محروم طبقات کی حالت دیکھ کر دل دکھتا ہے۔ ایک طرف بلند و بالا عمارتیں ہیں، شاپنگ مالز کی چمک دمک ہے، روشنیوں سے جگمگاتی سڑکیں ہیں۔ لیکن اسی شہر کے اندر کچی آبادیوں اور تنگ گلیوں میں ایسے ہزاروں گھر بھی ہیں جہاں زندگی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ ہماری چھوٹی سی کوشش محروموں کی زندگی بدلنے کے لئے ہے۔ ہمارے وسائل محدود ہیں، اس لیے ہر سال بہت کم لوگوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ مگر جو لوگ اس عمل سے گزرتے ہیں، ان کی زندگی میں حقیقی تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ ایک ٹھیلا لگانے والا شخص چند ماہ بعد اپنے بچوں کو سکول بھیجنے لگتا ہے۔ ایک سلائی کرنے والی خاتون اپنے گھر کا کرایہ خود ادا کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے منظر انسان کو یقین دلاتے ہیں کہ اگر ارادہ ہو تو محدود وسائل بھی بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کام کا دائرہ کچھ وسیع کیا جائے۔دسمبر میں کراچی گیا تو دعا فاونڈیشن کے منصوبوں نے متاثر کیا،چاہتے ہیں اسی نوع کا کام یہاں شروع کیا جائے۔غریب بچوں کو زیادہ آمدن والے ہنر سکھائے جائیں، بچیوں کو پاوں پر کھڑا کیا جائے،سماج میں خیرات کی بجائے محنت پر یقین عام کیا جائے۔ اس کے لیے بڑے دل والے لوگوں اور اداروں کی ضرورت ہے جو اس سوچ پر یقین رکھتے ہوں کہ کسی کو چند ہزار روپے دے کر اس کے ہاتھ میں کام دینا دراصل ایک خاندان کو مستقل سہارا دینے کے مترادف ہے۔ اگر چند بڑے ڈونرز اس منصوبے کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو ہر ماہ ایک کے بجائے شاید دس یا بیس لوگوں کو روزگار کا موقع دیا جا سکتا ہے۔ رمضان ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ انسان دوسرے انسان کے لیے آسانی پیدا کرے۔ عبادت کا حسن اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کے اثرات معاشرے میں بھی دکھائی دیں۔ انسا فاؤنڈیشن اور "اپنا روزگار" کی یہ کہانی دراصل اسی یقین کی کہانی ہے کہ معاشرے کی تبدیلی بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے عمل سے شروع ہوتی ہے۔ کبھی کسی کے ہاتھ میں سلائی مشین دے کر، کبھی کسی کے لیے چائے کا چھوٹا سا سٹال لگا کر اور کبھی کسی بیمار کے گھر کا خرچ اٹھا کر۔یہ کام شاید دنیا کی بڑی خبروں میں جگہ نہ بنا سکے، لیکن جن تاریک گھروں میں اس سے روشنی آئی ہے ان کی خوشی بہت بیش قدر ہے۔


© Daily 92 Roznama