menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ایران کی جنگ اور طاقت کی حدود

23 0
14.03.2026

ایران کی جنگ اور طاقت کی حدود

مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع، جس میں ایران، امریکہ اور اسرائیل براہِ راست ملوث ہیں، ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کر رہا ہے کہ عالمی نظام کس قدر نازک اور غیر یقینی ہو چکا ہے۔ جو تصادم ابتدا میں ایک محدود فوجی کارروائی دکھائی دیتا تھا، وہ تیزی سے ایک بڑے جغرافیائی اور سیاسی بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن، بین الاقوامی اتحادوں کی نوعیت اور فوجی طاقت کی حدود کے بارے میں بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے مشترکہ حملوں کا مقصد بظاہر ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا تھا۔ تاہم یہ حکمتِ عملی ایران کو دباؤ میں لا کر جھکانے کے بجائے اس کے برعکس نتائج پیدا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایران نے نہ صرف فوری جوابی کارروائی کی بلکہ اپنے دفاع کے لیے اپنی فوجی اور سیاسی طاقت کو بھرپور انداز میں متحرک کیا۔ ایرانی قیادت اس جنگ کو صرف ایک فوجی تصادم نہیں بلکہ اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی جنگ قرار دے رہی ہے۔ اس بحران کا ایک اہم پہلو عالمی ردعمل بھی ہے۔ امریکہ کو توقع تھی کہ اسے عالمی سطح پر وسیع حمایت حاصل ہوگی، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہوئی۔ چین اور روس نے کھل کر ان حملوں پر تنقید کی اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو اہم قرار دیا۔ ان دونوں طاقتوں کی سفارتی اور سیاسی حمایت نے ایران کو ایک حد تک عالمی تنہائی سے بچا لیا ہے اور امریکہ کے لیے اسے مکمل طور پر الگ تھلگ کرنا آسان نہیں رہا۔ یہ صورتحال عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ ایک وقت تھا جب امریکہ عالمی فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرتا تھا اور اس کے اتحادی اس کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے۔ لیکن اب دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل متبادل اتحاد تشکیل دے رہی ہیں۔ اس جنگ کا ایک اور اہم پہلو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی تشویش ہے۔ کئی دہائیوں سے خطے کے متعدد ممالک نے اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ ان اڈوں کا مقصد یہ بتایا جاتا تھا کہ وہ ان ممالک کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنائیں گے۔ لیکن موجودہ جنگ نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ آج خطے کے کئی ممالک یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر امریکی فوجی اڈے ان کے دفاع کے لیے قائم کیے گئے تھے تو اب انہی اڈوں کی موجودگی انہیں خطرے میں کیوں ڈال رہی ہے؟ ایران کی جانب سے جوابی حملوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو امریکہ کی فوجی سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔ اس طرح وہ اڈے جو کبھی سلامتی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے، اب کئی ممالک کے لیے ایک ممکنہ خطرہ یا بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ اس جنگ کے تناظر میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا بیان امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہے، جنہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے۔ یہ مطالبہ بظاہر اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ فوجی طاقت کے شدید دباؤ کے ذریعے کسی بھی ملک کو جھکایا جا سکتا ہے۔ ایران ایک قدیم تہذیب اور مضبوط قومی شناخت رکھنے والا ملک ہے۔ اس کے عوام کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ تصور کرنا کہ ایران اپنی خودمختاری سے دستبردار ہو کر ہتھیار ڈال دے گا، حقیقت سے بعید دکھائی دیتا ہے۔ ایرانی قیادت واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ وہ اپنی سرزمین، خودمختاری اور قومی وقار کے دفاع کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ ایران کے لیے یہ صرف ایک جنگ نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال بن چکا ہے۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جو صدر ٹرمپ کے مطالبے کو غیر حقیقت پسندانہ بناتی ہے۔ ممکن ہے کہ ایران کو جنگ میں بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے، اس کی معیشت مزید دباؤ میں آئے اور عالمی سطح پر اسے مشکلات پیش آئیں، لیکن اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ وہ اپنی قومی خودمختاری سے دستبردار ہو جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کو اپنی آزادی اور خودمختاری خطرے میں محسوس ہوتی ہے تو وہ شدید ترین حالات میں بھی مزاحمت جاری رکھتی ہے۔ طاقتور فوجی قوتیں شہر تباہ کر سکتی ہیں، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، لیکن کسی قوم کے عزم اور قومی شناخت کو آسانی سے شکست نہیں دے سکتیں۔ اس جنگ کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ تنازع عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر سکتا ہے، بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے اور پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ دنیا اس وقت ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں طاقت صرف ایک ملک کے ہاتھ میں نہیں رہی۔ ایسے ماحول میں کسی بھی تنازع کا حل صرف فوجی طاقت کے ذریعے تلاش کرنا مزید خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔آخرکار حقیقت یہی ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں۔ سیاسی حقیقتیں، قومی عزم اور بین الاقوامی حمایت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ صدر ٹرمپ کا ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ عملی طور پر پورا ہونا انتہائی مشکل ہے۔ ایران شاید شدید دباؤ کا سامنا کرے، لیکن وہ اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھنے کو ترجیح دے گا۔ اس جنگ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ طاقت کی بھی حدود ہوتی ہیں۔ فوجی قوت بہت کچھ تباہ کر سکتی ہے، مگر کسی قوم کو اپنی آزادی اور خودمختاری ترک کرنے پر مجبور کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔


© Daily 92 Roznama