پاکستان سعودیہ شراکت داری کیلئے نئے علاقائی چیلنجز
پاکستان سعودیہ شراکت داری کیلئے نئے علاقائی چیلنجز
مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم شہباز شریف کا حالیہ مختصر مگر اہم دورہ سعودی عرب خطے میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں کے پس منظر میں ایک اہم تزویراتی مشاورت ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ہونے والی ملاقات اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنی دیرینہ شراکت داری کو موجودہ حالات کے مطابق مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی یا معاشی نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی اور دفاعی بنیادوں پر قائم ہیں۔ دہائیوں سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خطے میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو اسلام آباد اور ریاض کے درمیان قریبی رابطے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی، خصوصاً ایران اور اسرئیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی اور امریکہ کی ایران کے خلاف کارروائیوںنے پورے خطے کو غیر یقینی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے اثرات صرف خلیج یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ جنوبی ایشیا سمیت عالمی معیشت اور توانائی کی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب، جو خطے کی سب سے بڑی معیشت اور ایک مرکزی سیاسی قوت ہے، فطری طور پر اپنی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے حساس ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس ملاقات میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ یہ بیان محض سفارتی آداب نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک بنیادی اصول کی ترجمانی کرتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو اپنی سلامتی سے جڑا ہوا سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔پاکستانی افواج برسوں سے سعودی دفاعی نظام کے ساتھ مختلف سطحوں پر تعاون کرتی رہی ہیں۔ اس وقت بھی پاکستانی عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیرکی موجودگی میں دفاعی مشاورت کا تسلسل برقرار ہے۔ ایسے دور میں جب خطے میں ڈرون جنگ، میزائل حملوں اور غیر روایتی سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کی عسکری مہارت سعودی عرب کے لیے ایک اہم اثاثہ سمجھی جاتی ہے۔ وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات میں غالب امکان ہے کہ سعودی عرب کی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتوں، انٹیلی جنس تعاون اور سکیورٹی کوآرڈینیشن جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئے ہوں۔ مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی تنصیبات اور اہم شہری مراکز کو لاحق خطرات کے پیش نظر یہ موضوعات نہایت اہم ہیں۔ پاکستان اس حوالے سے نہ صرف تجربہ رکھتا ہے بلکہ خطے میں استحکام کے لیے ایک معتدل اور قابلِ اعتماد کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس دورے میں صرف سکیورٹی نہیں بلکہ سفارتی اور اقتصادی پہلو بھی زیر غور آئے ہوں گے۔ سعودی عرب اس وقت اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر جدید صنعتی اور ٹیکنالوجی معیشت کی طرف لے جانے کے لیے ویژن 2030 پر عمل پیرا ہے۔ اس عمل میں پاکستان کے لیے بھی کئی مواقع موجود ہیں، خصوصاً افرادی قوت، تعمیرات، آئی ٹی اور زراعت کے شعبوں میں۔تاہم موجودہ علاقائی کشیدگی نے دونوں ممالک کے لیے کچھ پیچیدہ سفارتی چیلنج پیدا کیے ہیں۔ ایک طرف سعودی عرب خطے میں استحکام اور اقتصادی ترقی کی پالیسی پر گامزن ہے جبکہ دوسری طرف ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کہ اس کے ایران کے ساتھ ہمسایہ تعلقات ہیں اور وہ کسی بڑے علاقائی تصادم کا حصہ بننے کے بجائے مصالحتی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔یہی وہ نازک توازن ہے جسے برقرار رکھنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ پاکستان اگر دانشمندانہ سفارت کاری کے ذریعے سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعاون جاری رکھتے ہوئے کشیدگی میں کمی کی کوشش کرے تو وہ ایک مثبت اور بااثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ پاکستان کو خطے میں امن کے داعی کے طور پر پیش کیا جائے۔ انہوں نے ملاقات کے دوران خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔ اس موقف کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں نئے اتحادوں اور توازنِ طاقت کی تشکیل میں مصروف ہیں۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سٹریٹجک شراکت داری کو محض روایتی بیانات تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے عملی تعاون، اقتصادی روابط اور مشترکہ سلامتی کے فریم ورک میں مزید مضبوط کرے۔ سعودی سرمایہ کاری، توانائی کے منصوبے اور صنعتی تعاون پاکستان کی معیشت کے لیے بھی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔مختصراً یہ کہ وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ سعودی عرب ایک بروقت اور اہم سفارتی قدمہے۔ اس نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو تقویت دی بلکہ خطے کے نازک حالات میں مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کی شراکت داری اگر دانشمندی، توازن اور باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک مثبت قوت ثابت ہو سکتی ہے۔
