کورئیر والوں کا کمال
آج کل بنکنگ سمٹ کر کارڈوں تک محدود ہو گئی ہے ۔ چیک بک کا وجود تو ہے مگر کم لوگ استعمال کرتے ہیں۔ پہلے چیک کاٹو، پھر چیک جمع کرا کر نمبر لو۔ پھر انتظار کرو اس کے بعد رقم وصول کرو۔ گو یہ عمل بھی پہلے سے بہت بہتر ہو گیا ہے مگرلوگ اب اس جھنجھٹ میں کم پڑتے ہیں ۔ کارڈ استعمال کیا۔ چند سیکنڈ میں رقم وصول کی اور فارغ۔کارڈوں نے بنکنگ بہت آسان کر دی ہے۔ مگر اس آسانی کے ساتھ بھی بہت سے مسائل بھی جڑے ہیں۔ لیکن ان مسائل کے باوجود بنکنگ کے شعبے میں روز بروزجدت آتی جا رہی ہے۔آن لائن بنکنگ بھی ایک شاندار سہولت ہے ۔ آپ اپنے گھر بیٹھے کسی سے رقم وصول کر سکتے ہیں، کہیں بھی بھیج سکتے ہیں ۔ سب ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔آپ کا سارا کاروبار آپ کے فون پر ہوتا ہے، کوئی مشکل پیش نہیں آتی بلکہ کام حد سے زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔آپ کو ہر لمحے اپنا مکمل حساب کتاب معلوم ہوتا ہے۔بنک کی ایپ ڈائون لوڈ کریں اور جدید بنکاری کا لطف اٹھائیں۔ کارڈ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک کریڈٹ کارڈ اور دوسرا ڈیبٹ کارڈ۔کریڈٹ کارڈ ایک طرح کا قرض ہے جو بنک آپ کو ہمہ وقت فراہم کرتا ہے۔ہر کریڈٹ کارڈ کی ایک حد ہوتی ہے کہ اس حد تک بنک کی رقم آپ استعمال کر سکتے ہیں۔اگر آپ وہ رقم استعمال کریں اور مہینے کے اندر اسے لوٹا دیں تو کریڈٹ کارڈ بہت اچھا ہے اس لئے کہ کچھ فالتو نہیں دینا پڑے گا۔ بالکل ایسے ہی کہ جیسے کبھی لوگ محلے کی کسی دکان سے مہینہ بھر راشن لیتے اور پھرپہلی تاریخ کو تنخواہ ملنے پر واپس کر دیتے تھے۔ لیکن لوگ اس کارڈ کو سنجیدہ نہیں لیتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی رقم بڑی تیزی سے بڑھتی اور ناقابل رسائی ہو جاتی ہے۔اک زمانہ تھا کہ میرے پاس کئی کریڈٹ کارڈ تھے اور پھر ایک وقت آیا کہ ایک عذاب تھا جس سے میں نے بڑی مشکل سے چھٹکارا پایا۔بعض دلچسپ واقعات بھی پیش آئے۔ میں نے ایک بڑے بنک کے کریڈٹ کارڈ کی مکمل ادائیگی کر دی اور درخواست کی کہ کارڈ بند کر دیا جائے۔ مجھے اس ماہ جو بل آیا اس پر مائینس چھ (-6) روپے کی رقم درج تھی۔ میں خوش تھا کہ جان چھٹ گئی۔ مگر اگلے بل میں 600 روپے لیٹ چارجز کے ڈال کر مجھ سے 594 روپے مانگے گئے۔ میں نے شکایت کی کہ بل ٹھیک کرو اور اس اکائونٹ کو ختم کرو ۔ تمام یقین دہانیوں کے اگلے ماہ 1400 کے لگ بھگ بل آگیا۔ میں چھ ماہ خراب ہوتا رہا۔ بل بڑھتے بڑھتے پانچ ہزار تک پہنچ گیا۔ تب بنک کے کچھ بندوں نے مہربانی کی اور میری جان چھوٹی۔میرے خیال میں عام آدمی کے لئے، جسے اپنے اخراجات پر کنٹرول نہیں ،کریڈٹ کارڈ کچھ اچھی چیز نہیں ۔ اس لئے میں اب کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے سے اجتناب کرتا ہوں۔ ڈیبٹ کارڈ اپنے اکائونٹ کے حوالے سے ہوتا ہے ۔ بنک سے اپنے اکائونٹ میں سے پیسے نکالنے کے لئے یہ کارڈ استعمال ہوتا ہے ۔ آپ کے اکائونٹ میں پیسے ہیں تو یہ کارڈ کارآمد ہے لیکن اس کارڈ کا سب سے بڑا فائدہ وقت کی بچت ہے۔لیکن اگر خراب ہونا آپ کا مقدر ہو تو یہ کارڈ بھی کبھی کبھی مشکل کا شکار کر دیتا ہے۔میں آج کل یہی کارڈ استعمال کرتا ہوں۔ دسمبر2025 میںکسی برطانوی فرم نے میرے اکائونٹ سے کچھ رقم نکلوا لی ۔ میرے فون پر بنک کا پیام ملنے پر میں نے بنک کو شکایت کی کہ فرم والے کون ہیں اور میرا ان سے کیا تعلق ہے اور انہوں نے وہ رقم کس کی اجازت سے میرے اکائونٹ سے نکلوائی ہے۔ بنک نے میرا اکائونٹ عارضی طور پرمعطل کر دیا کہ کوئی مزید رقم نہ نکال سکے ۔بنک کی کوشش کے سبب 27 جنوری کو میری اغوا شدہ رقم میرے اکائونٹ میں واپس آ گئی۔ یہ ایک اچھی بات تھی جس کے لئے بنک انتظامیہ قابل تعریف ہے۔اب بنک والے میرا کارڈ بحال کرنا چاہتے تھے مگر اب کیا ضمانت تھی کہ اس کارڈ سے دوبارہ رقم نہیں نکالی جائے گی کیونکہ اس کا نمبر اور دیگر تفصیلات تو اب لیک ہو چکی تھیں۔چنانچہ میں نے بنک سے درخواست کی کہ بہتر ہے اس کارڈ کو کینسل کرکے ایک نیا کارڈ بنا دیا جائے۔ 12 فروری کو میرا کارڈ بن کر تیار تھا جو بنک نے ایک مشہور کورئیر کمپنی کے سپرد کیا کہ مجھے پہنچا دے۔یہ کارڈ اصولی طور پر مجھے 13 فروری کو مل جانا چائیے تھا۔مگر آج ایک مہینہ گزرنے کے باوجود وہ کارڈ مجھے نہیں مل سکا۔میری شکایت پر انہوں نے 18 فروری کو کہا کہ شکایت کی بجائے اپنے نمبر کو ٹریک کریں۔ میں نے بتایا کہ روز ٹریک کرتا ہوں۔ پتہ چلتا ہے کہ لاہور پہنچ چکا ہے اور بس بھیجا جا رہا ہے لیکن جانے کیوں پہنچ نہیں پا رہا۔میں نے بارہا شکایت کی اور ہر دفعہ اپنا گھر کا پتہ بمعہ فون نمبروں کے درج کیا۔ 20 فروری کو انہوں نے لکھا کہ آپ کی شکایت پر ترجیحی بنیادوں پر کاروائی کی جا رہی ہے۔27 فروری کو انہوں نے کہا کہ آپ کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ،اس لئے کہ آپ کا ایڈریس مکمل نہیں ہے۔وہ تمام کمپنیاں جو خرید و فروخت آن لائن کرتی ہیں۔ ان کے پارسل لئے ان کے نمائندے سارا دن یہاں گھومتے ہیں۔ TCS کے پارسل بھی صبح شام یہاں آتے ہیں۔ میرے ساتھ جانے کیا دشمنی تھی کہ 2 مارچ تک لگاتار وہ مجھے کھلاتے رہے کہ کل آپ کو مل جائے گی۔ معذرت خواہ ہیں کہ دیر ہو گئی ۔ حد ہوتی ہے دیر کی بھی ۔ مگر ایک نامور کورئیر کمپنی اگر اس طرح کرے تو اس کی کارکردگی پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔2 مارچ کو انہوں نے ’’Bad Address ‘‘لکھ کر میرا کارڈ بنک کو واپس کر دیا۔آج دس دن سے زیادہ ہو گئے ، بنک کو کارڈ نہیں ملا، کورئیر والوں نے بھیج دیا۔ میں ایک ماہ سے خراب ہو رہا ہوں۔ ان سب کے خلاف قانونی کاروائی نہ کروں تو کیا کروں۔ گو عدالتوں سے بھی عام آدمی کو کوئی امید نہیں ہوتی ۔ کیس اتنے لمبا چلتے ہیں کہ انسان ختم ہو جاتا ہے ، کیس ختم نہیں ہوتا۔ لیکن چپ رہنا بھی منافقت ہے۔
