ایران ہار نہیں مانے گا
ایران ہار نہیں مانے گا
امریکہ اور اسرائیل کی غنڈہ گردی اِس وقت پورے عروج پر ہے۔ مشرق وسطی اِن کی وجہ سے آگ میں جل رہا ہے۔ ہر طرف بے گناہ مسلمان مارے جا رہے ہیں۔ عربوں کی حالت نے عالم اسلام کو کمزور کر کے رکھ دیا ہے۔ کچھ عرب ممالک نے جس طرح سے امریکہ اور اسرائیل کی غلامی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنا لیا ہے اْس سے مسلمانوں کی غیرت کا جنازہ پڑھا جا چکا ہے۔ ایران خطے میں واحد مسلم ملک ہے جو اِس وقت امریکہ اور اسرائیل کے ہر قسم کے ظلم کا مقابلہ کر رہا ہے جبکہ اِس سے قبل امریکہ نے صدام حسین کی بڑھتی ہوئی طاقت سے مرعوب ہو کر اْسے تباہ وبرباد کیا تھا۔ صدام حسین کو صرف اس لیے مار دیا گیا کہ وہ عراق کو ایک بڑی طاقت بنانا چاہتا تھا اور وہ بھی اسرائیل کا سخت دشمن تھا ۔چونکہ امریکہ کی پالیسیوں پر زیادہ تر یہودی غالب ہیں اس لیے امریکہ کے جتنے بھی صدور آئے ہیں وہ زیادہ تر اسرائیل کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ثابت ہو چکے ہیں۔ ایران کا قصور صرف یہی ہے کہ وہ اپنے دفاع اور بقا کی خاطر ایٹمی طاقت بننا چاہتا ہے اور یہ اْس کا بنیادی حق ہے۔ ہر ملک اپنی قوم اور اپنی شناخت کو قائم رکھنے کے لیے آزاد ہوتا ہے۔ ایران کی تاریخ و تہذیب چھ ہزار سال سے زائد قدیم ہے۔ دارا اعظم سے لے کر نو شیراوں اول اور دوم تک اِس کی روشن تاریخ ہے۔ کبھی ایران سپر پاور ہوا کرتا تھا اور پوری دنیا میں اس کی دھاک ہوا کرتی تھی۔ فارس اپنے آپ کو فارسی زبان کی وجہ سے پوری دنیا میں مہذب اور پڑھے لکھے سمجھتے تھے اور پھر صدیوں تک پوری دنیا پر راج بھی کیا۔ اس لیے ان کی جبلت میں احساس برتری بھی بہت زیادہ رہا حضرت شیخ سعدی ؒفرماتے ہیں کہ حسن بہ مردم ترک دارو عقل دانش و فہیم بہ مردم ایران دارو ترجمہ: حسن اور خوبصورتی ترکوں کے حصے میں آئی جبکہ دانش مندی اور علم ،عقل ایران میں پایا جاتا ہے۔ ایران امریکہ کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا ،اْن کو اپنی تاریخ اور تہذیب و تمدن پر پہلے کی طرح فخر اور ناز ہے۔ اس لیے وہ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے کبھی بھی ہار نہیں مانے گا ۔ ایران اس وقت تن تنہا عالم کفر کے سامنے ڈٹا ہوا ہے اس سے بڑی بہادری اور جرات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ سر تو کٹا رہا ہے لیکن میدان جنگ میں جھکنے کا نام نہیں لیتا۔ فردوسی کے شاہ نامہ میں ایران کی تاریخ اور ایرانی رستم کے جو کارنامے بیان کیے گئے ہیں اْسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ایرانی واقعی ایک بہادر اور جفا کش قوم ہے ۔ فرہاد بھی ایرانی تھا کہ جس نے ایران کی شہزادی شیریں کی خاطر اپنی انجینئرنگ کے کمال سے دودھ کی نہر جاری کر دی تھی، تو بات ہو رہی ہے ایران کے تہذیب و تمدن اور اْس کی تاریخ کی لیکن افسوس ہوتا ہے کہ عرب حکمرانوں پر کہ جنہوں نے امریکہ کے سامنے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور اپنا سارا دفاعی نظام امریکہ کے حوالے کیا ہوا ہے۔ ویسے قرب قیامت میں سہل پسندوں کی تباہی اور ان کی عیاشیوں کا ذکر بعض احادیث مبارکہ میں آیا ہے ۔حضور اقدس ﷺ کی وہ تمام پیشنگوئیاں جو قیامت کے زمانے کے قریب ظاہر ہو نگی وہ سب کی سب اب پوری ہو رہی ہیں۔ اب صرف قیامت کی کچھ بڑی نشانیوں کا ظہور ہونا باقی ہے۔ قیامت کی بڑی نشانیاں یہ ہوں گی: دجال کا ظاہر ہونا جو پوری دنیا میں چالیس دنوں کے اندر سفر کر لے گا اور وہ بڑی تعداد میں لوگوں کو گمراہ کرے گا۔ اسی دوران یاجوج ماجوج کا فتنہ ظاہر ہو گا جو شام کے نزدیک آکر ایک بڑی پانی کی جھیل کا صفایا کردے گا جبکہ لوگوں کو بڑی تعداد میں قتل کر کے کھا جائیں گے ۔اسی فتنہ کے دوران حضرت عیسیٰ ؑ دمشق کی جامع مسجد اْموی کے مینار پر آسمان سے اتریں گے اور پھر امام مہدی ؑ کے ساتھ مل کر یاجوج ماجوج اور دجال کا خاتمہ کر یں گے اور یہودیوں کو لھدد کے مقام پر شکست دیں گے۔ اْس روز زمین کی ہر چیز پکار پکار کر مسلمانوں کو بتائے گی کہ فلاں یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے ،آو اور اِس بد بخت فتنے کو قتل کر دو ۔اس روز صرف غرقد کا درخت یہودیوں کو پناہ دے گا ۔اس لیے پورے اسرائیل کے اندر سب سے زیادہ غرقد کا درخت لگایا جا رہا ہے یعنی یہودی ہمارے آقا ئے جناب رسالت مآب ﷺ کی پیشنگوئیوں پر بھی یقین رکھتے ہیں ۔آج انہی یہودیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں تیسری عالمی جنگ کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ جو صرف مسلمانوں کی نسل کشی میں سب سے آگے ہے وہ یہودیوں کا سب سے بڑا حمایتی اور ایجنٹ ہے لیکن دوسری طرف ہمارے مسلم حکمرانوں کو بیماری لا حق ہو چکی ہے۔ اس لیے وہ دنیا کی محبت اور موت کے ڈر کی وجہ سے اندھے اور بزدل ہو چکے ہیں۔ ایران چونکہ عربوں کے بقول عجم ہے اس لیے وہ امریکہ اور اسرائیل کی غلامی قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے لیکن اگر عربوں کے اندر آج بھی شجاعت حیدر کرار ؑ اور جوش خالد بن ولید ؓ پیدا ہو جائے تو امریکہ اور اسرائیل کے لشکر اِن کے سامنے خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں۔ ایران اللہ تعالیٰ کی خاص مدد سے ڈٹا رہے گا اور امریکہ و اسرائیل خود تباہ ہونے والے ہیں، یہی قانون قدرت ہے کہ جب فرعون کی سر کشی حد سے زیادہ بڑھی تو وہ تباہ و برباد ہو گیا۔
