We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

نئے صوبوں کا قیام

6 0 1
12.02.2019

نئے صوبوں کا قیام

تحریک انصاف کی حکومت جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے وعدہ سے منحرف تو نہیں ہوئی‘ لیکن سو دن کے متعین ٹائم فریم کے اندر نئے صوبہ کے قیام کیلئے وہ ابتدائی اقدامات بھی نہیں اٹھا سکی‘ جس کاعہد وپیماں‘عمران خان صاحب نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی قیادت سے باندھا تھا۔خان صاحب کو تو چھوڑیئے‘ خسروبختیار کی قیادت میں ‘جس گروہ نے خود جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے وعدہ پہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی‘ وہ بھی نہایت آسودگی کے ساتھ اقتدار کی گرم آغوش میں سو گئے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سمیت جنوبی پنجاب کے وہ تمام الیکٹ ایبلز اس وقت مصلحت کی بُکل اوڑھے بیٹھے ہیں‘ جو اپنی انتخابی مہم کے دوران بلند آہنگ میںجنوبی پنجاب صوبہ کا راگ الاپتے رہے۔

بلاشبہ نئے صوبے کے قیام کی علمبردارتنظیمیں تو اتنی سکت نہیں رکھتیں کہ وہ الگ صوبے کے خواب کی تعبیر لا سکیں‘ لیکن ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں بھی جنوبی پنجاب صوبے کی تخلیق کو اپنے سیاسی مفادکے منافی سمجھتی ہیں۔وسطی پنجاب کی نمائندگی کرنے والی‘نوازلیگ کو جنوبی صوبے کے قیام کی مہم چلانا تو درکنار اس ایشو پہ بات کرنا بھی گوارا نہیں‘اسی طرح جنوبی پنجاب میں گہری جڑیں رکھنے والی پیپلزپارٹی نے پہلے شدت کے ساتھ نئے صوبے کا ایشو اٹھا کے جنوبی پنجاب کے باسیوں کو امید دلائی پھر ضمیر پہ کوئی بوجھ لئے بغیر پسپائی اختیار کر کے نئے صوبے کے طلبگار عوام کی مایوسی بڑھا دی۔ لاریب ‘ پیپلزپارٹی اور دیگر سندھی جماعتوں کو جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی صورت میں سندھ کی تقسیم کے ڈراونے خواب دکھائی دیتے ہیں؛چنانچہ جنوبی پنجاب کی آخری امید پی ٹی آئی بنی‘ مگر بدقسمتی یہ کہ چاہنے کے باوجود وہ بھی اس بھاری پتھر کو اٹھانے کی جرأت نہیں کر سکی۔امر واقعہ یہ ہے........

© Roznama Dunya