We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ہند کے مسلمان حکمران، عوام اور انگریزی راج

6 0 12
14.01.2018

دراصل میری بینک کی ملازمت نے مجھے تمام دنیا کی سیر کروائی۔ 27 سال میَں دنیا کے تمام چھوٹے بڑے ممالک میَں نے دیکھ ڈالے۔ سیر کے دوران میرا محبوب مشغلہ اِن ممالک کے عجائب گھر اور آثارِ قدیمہ دیکھنا بھی ہوتا تھا۔

شام کے وقت اپنے رہائشی ہوٹل میں آکراُس ملک کی مختصر سی تاریخ کا مطالعہ بھی کرتا تھا۔ اس مشغلے سے مجھے مختلف اِنسانی معاشروں کو تھوڑا بہت سمجھنے کا موقع مِلا۔ تاریخ بینی ہمیشہ سے میرا Passion رہا ہے۔ میرے ہر مضمون میں آپ کو تاریخی حوالے ضرور ملیں گے۔


اپنی سیر بینی کے دوران دنیا کی تاریخ کے دو اہم واقعات میرے مشاہدے میں آئے۔ اِن دُور رس واقعات نے دنیا کی تاریخ ہی بدل کر رکھ دی۔ پہلا واقع تو ہے یورپ کی سامراجی یلغار جس نے تمام ایشیا اور افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

یورپ کے 4 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ایشیا ئی ممالک کو فتح کیا۔ پہل کرنے والا ملک ہالینڈ اور اُس کے بعد ترتیب وار پرتگال، فرانس اور برطانیہ تھے۔ خوش قسمتی سے مجھے اِن چاروں ملکوں کی ایشیائی اور افریقی کالونیوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔

انڈو چائنا(آج کا ویٹ نام ، کمبوڈیا اور لاؤس)فرانس کے زیرِ قبضہ رہے۔ انڈونیشیا ہالینڈ کا 150سا ل تک محکوم رہا۔ گوا اور گوام پرتگال کے مقبوضہ علاقے تھے جہاں اُنہوں نے 450 سال حکومت کی۔ برطانوی سامراج کے زیرِ اثر توآدھی دنیا تھی بشمول برِصغیر کے۔

اِن تمام سامراجی ممالک میں صرف برطانیہ نہائت ہی زیادہ Benevolent حکمران تھا۔ جس ملک میں بھی انگریز گیا وہاں اُس نے بہترین مواصلاتی نظام بنایا۔ جدید مدرسے اورہسپتال تعمیر کروائے۔ یونیورسٹیاں بنائیں۔

بہتر مالیاتی نظام دیا۔ زراعت اور صنعت کو ترقی دی۔ جدید فوجی سسٹم دیا۔ عوام کی تفریح کے لئے باغات ، عجائب گھر اور چڑیا گھر دیئے۔ غرض کہ صنعتی اِنقلاب کی تمام برکات سے اپنے محکوم عوام کو روشناس کروایا۔

انگریز کے آنے سے قبل، ہندوستان پر مسلمان Dynasties کی حکمرانی رہی۔ محمود........

© Daily Pakistan (Urdu)