We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ہنگامہ پرور جنوری، ہنگامہ پرور جمہوریت

3 0 0
13.01.2018

2018ء کے پہلے دن ایسے گذرے کہ جیسے یہ سال ہنگامہ پرور سال ہو، جنوری نے تو ثابت کردیا ہے کہ وہ ہنگامہ پرور مہینہ ہے، بلوچستان میں وزیراعلیٰ گھر چلے گئے، قصور میں زینب کیس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، طاہر القادری نے جنوری ہی میں طبل جنگ بجانے کا اعلان کردیا، گویا سب کچھ ایک ایسے مستقبل کا پتہ دے رہا ہے، جس پر کوئی بھی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔

اب تو سب یہ پوچھ رہے ہیں کہ ملک کیسے چل رہا ہے اور کون چلا رہا ہے، جہاں خادم اعلیٰ کو زینب کے ورثاء سے تعزیت کے لئے رات کے اندھیرے میں اس کے گھر جانا پڑے کیونکہ دن کے وقت مشتعل لوگوں کی طرف سے رد عمل کا کھٹکا ہو، وہاں یہ سوال تو بنتا ہے کہ آخر صوبے کا حاکم کون ہے؟ اگر حاکم ہی خوفزدہ ہوگیا ہے تو باقیوں کا کیا بنے گا۔

میں تو اس بات پر حیران ہوں کہ حکومتوں کا چاہے پہلا سال ہو یا آخری، ہنگاموں کی صورت ایک سی رہتی ہے، کوئی ایسی گنجائش ہی پیدا نہیں ہوتی جس میں عام آدمی کی بات بھی کی جائے، اس کے بارے میں بھی سوچا جائے، یہ کیسی عجیب و غریب جمہوریت ہے جس میں جمہور کے نمائندے اس سے خوفزدہ ہوکر گھروں میں چھپ جاتے ہیں، قصور میں ارکانِ اسمبلی کے گھروں پر حملے ہوئے ہیں تو علم ہوا ہے کہ وہاں ارکانِ اسمبلی کے گھر بھی ہیں وگرنہ تو یہی لگتا ہے کہ جیسے وہ کسی اور دیس بستے ہیں کیونکہ وہ اس سارے ہنگامے میں کہیں نظر نہیں آئے حتیٰ کہ انہوں نے معصوم زینب کے جنازے میں بھی شرکت نہیں کی، سوال یہ ہے کہ انہوں نے از خود یہ کیسے سمجھ لیا کہ لوگ ان کے خلاف رد عمل ظاہر کریں گے۔

آخر کیا خوف تھا جس کی وجہ سے پندرہ کے قریب ارکانِ اسمبلی گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے، کیا ان کے دل میں یہ چور تھا کہ وہ چونکہ جرائم پیشہ لوگوں کی سرپرستی کرتے ہیں، ان کے ذریعے لوگوں پر ظلم ڈھاتے ہیں، اس لئے اگر........

© Daily Pakistan (Urdu)