ایک کہانی پوٹھوہار کی لوک داستان ہے۔ دوسری صحرائے عرب کے اعرابی ؍ بدّو کی آپ بیتی۔ دونوں میں 'مورل آف دی سٹوری‘ سن کر پچھلے آٹھ ماہ کا پاکستان ذہن میں آتا ہے۔ کوئی بدّو پردیسی ہوگیا‘ صحرا چھوڑ کر دوسرے ملک میں جا پہنچا۔ کئی سال بعد اُسی علاقے میں بدّو کے گائوں سے تعلق رکھنے والے دوسرے آدمی کو بھی نوکری ملی۔ پہلی ملاقات میں پرانے پردیسی نے گائوں گوٹھ کا حال احوال جاننا شروع کیا۔ سب اچھا ہے‘ سب خیر سے ہے! صرف تمہارا کتا مر گیا ہے۔ یہ سن کر پرانا بولا: میرا کتا مرا کیسے؟ نئے نے جواب دیا: سب اچھا ہے‘ فکر کی کوئی بات نہیں‘ اُس کے گلے میں تمہارے اونٹ کی ہڈی پھنس گئی تھی‘ اس طرح وہ مرگیا۔ بدّو کی حیرانی پریشانی میں بدلنے لگی۔ نیا پھر بولا: فکر کی کوئی بات نہیں‘ اونٹ مرا نہیں‘ اسے تمہارے والد کے قل والے دن خیرات کے طور پر ذبح کرکے لوگوں کو اس کا گوشت کھلایا گیا۔ یہ ثواب کا کام ہے‘ فکر کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ اب بدّو پریشان کے بجائے ہلکان ہو کر پوچھنے لگا: والد صاحب کو کیا ہوا؟ نئے پردیسی نے کمال شانِ بے نیازی سے بتایا: ویسے تو وہ ٹھیک ٹھاک تھے‘ صحت مند لیکن تمہاری دادی کی اچانک موت کا صدمہ برداشت نہ کر سکے۔ ورنہ سب اچھا تھا۔
بدّو نے آہوں اور سسکیوں کے درمیان اگلا سوال کیا: دادی اماں کی وفات کس طرح ہوئی؟ جواب آیا: وہ ٹھیک ٹھاک تھیں کوئی مسئلہ نہیں تھا‘ رات کو کھانا کھانے کے بعد دیر تک تمہارے والد اور والدہ کے ساتھ باتیں کرتی رہی۔ وہ ہنسی خوشی اُٹھے اور سونے والے کمرے میں چلے گئے۔ بس آپ اسے قدرت کی تقدیر کہہ لیں کہ رات کو تمہارے گھر کی چھت گر گئی۔ امی ابو‘ زخمی ہوگئے مگر بچ گئے لیکن ضعیف العمری اور کمزوری کی وجہ سے تمہاری دادی کی جان چلی گئی۔
ان دنوں پاکستان میں بھی ایک نیا پردیسی آیا ہوا ہے۔ جو پرانے پاکستان کی پرانی خبریں سنا سنا کر آٹھ ماہ سے لوگوں کو کہہ رہا ہے فکر کی کوئی بات نہیں‘ سب اچھا ہے۔ جب اس کا باس شوبازی کرنے کے لیے رات کے پچھلے پہر کاٹھ کی رتّھ پر چڑھ کر اقتدار میں آیا‘ اس کا افتتاحی بیان یہ تھا؛ ''6ماہ میں سب بدل دیں گے‘‘۔
شوبازی کا راج شروع ہوا‘ 6ماہ میں واقعی سب کچھ بدل گیا‘ ڈالر بے قابو ہو گیا۔ امپورٹڈ وزیراعظم نے کہا: IMFکے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ ساتھ اپنی نااہلی پلس کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ''اُنہوں نے پتا نہیں کہاں کہاں ہمارے انگوٹھے لگوا لیے‘‘۔ معیشت ٹھیک کرنے کے سب دعوے ہوا ہو گئے۔ شہباز سپیڈ نے پوری سپیڈ سے سارے ملک کو ریورس گیئر لگا دیا ہے‘ جس کے چند بڑے رپورٹ شدہ اشاریے یہ ہیں؛
پہلا اشاریہ: رواں سال میں7لاکھ 65ہزار نوجوان‘ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور تربیت یافتہ بھی‘ وہ پاکستان چھوڑ کر باہر چلے گئے۔
دوسرا اشاریہ: آٹو موبائل سیکٹر میں 4ماہ میں 65ہزار لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل مل دو ہزار ورکرز کو فارغ کرنے پر مجبور ہوئی۔ ہر شہر میں بے روزگار ہونے والے سینکڑوں میں نہیں‘ ہزاروں میں ہیں۔
تیسرا اشاریہ: ڈالر نے پاکستانی روپے کے چیتھڑے اُڑا دیے۔ Pharmaceuticalکمپنیوں کے پاس دو ہفتے سے کم کا خام مال رہ گیا۔ وزارتِ صحت نے دواؤں کے شدید بحران کا خدشہ صرف ظاہر نہیں کیا بلکہ وزارتِ خزانہ کو تحریری خط بھی لکھ دیا ہے۔
باقی جس کے ہاتھ میں موبائل ہے‘ جس کے گھر میں بلب جلتا ہے‘ جس کے شکم کو بھوک ستاتی ہے‘ جو آٹے سے روٹی بنا کر کھاتا ہے‘ اس سے پوچھ لیں۔ یہاں ان کی بات نہیں ہو رہی جِن کو سب کچھ سرکار دیتی ہے یا جو ہماری جیب کاٹ کر کھاتے ہیں۔
کمال کی بات یہ ہے کہ ملک کے سارے مسائل کا حل عمران کے سارے مخالفین اور ناقدین نے ڈھونڈ نکالا ہے۔ حل بڑا سیدھا سادا ہے‘ عمران خان کو سیاست سے نکال دو‘ پاکستان چل پڑے گا۔ اس کے لیے پانچ اطراف سے ٹیلر میڈ قانون اور کینگرو پرچے اور مقدمے قائم کیے گئے ہیں۔ جن میں بنیادی کردار ملک میں منصفانہ الیکشن کروانے کے ذمہ دار (Regulator) کا ہے۔
اس وقت PDMنے اپنی ساری امیدوں کا مرکز عمران خان کی نااہلی اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ الیکشن کمیشن کے نوٹسز‘ Suo Motoنوٹسز اور عمران کو نشانے پر رکھ کر بنائے اور چلائے جانے والے کیسز کو سمجھ لیاہے۔ ان مقدمات کی دو بنیادیں ہیں۔ ایک ممنوعہ فنڈنگ اور دوسرا توشہ خانہ۔
توشہ خانہ سے پیسے دے کر لیے گئے تحفے جو خریدنے والے کی ملکیت بن چکے تھے‘ انہیں بیچنا بھی الزام بنایا گیا ہے۔ عقل کے سو فیصد اندھوں کو بھی پتا ہے کہ توشہ خانہ میں آنے والے سارے تحائف فروخت ہوتے ہیں ماسوائے گاڑیوں کے‘ وہ بھی نیلامی کے ذریعے۔
فرض کریں یہ تحفے عمران خان نہ خریدتے تو تب بھی انہوں نے نیلام ہی ہونا تھا۔ ممنوعہ فنڈنگ پر اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ پچھلے 75 برسوں میں صرف ایک پارٹی کے اکائونٹس کا آڈٹ ہوا‘ وہ ہے پاکستان تحریک انصاف۔ اسی کمیشن میں PDMکی دونوں بڑی جماعتوں کے مقدمات کی فائل کسی ایسے سرہانے کے نیچے آرام فرما رہی ہے جس پہ غیر جانبداری کی Alice انصاف کے Wonderland میںگیسو دراز کیے سو رہی ہے۔
جمعرات کا دن کمال کا دن تھا۔ معیشت کے تینوں محمود و ایاز ایک ہی صَف میں کھڑے ہو گئے۔ ڈالر 230 روپے کا‘ پیاز کلو 230روپے اور ٹماٹر بھی230روپے کلو ہو گیا۔ واقعی پاکستان Paris بن گیا ہے۔ رجیم چینج کے تخلیق کاروں‘ ہدایت کاروں‘ سرمایہ کاروں اور سہولت کاروں کو عوام کا پَرنام۔
عمران خان کی نااہلی الیکشن کمیشن کے جس مقدمے میں بھی کرائی جائے گی‘ اس کا آخری فیصلہ صدرِ پاکستان کے اختیار میں ہے۔ آئین کا آرٹیکل 45بڑا واضح ہے‘ جس کے الفاظ یہ ہیں؛
"President's power to grant pardon, etc. The President shall have power to grant pardon, reprieve and respite, and to remit, suspend or commute any sentence passed by any court, tribubnal or other authority".
صدر‘ تین طرح کے فیصلوں پر معافی دے سکتے ہیں‘ انہیںمعطل کرسکتے ہیں‘ ختم کر سکتے ہیں‘ عملدرآمد روک سکتے ہیں۔
پہلا: کسی بھی عدالت کا فیصلہ‘ دوسرا: کسی طرح کے Tribunalکا فیصلہ اور تیسرا: کسی بھی دوسری اتھارٹی کا فیصلہ۔
آئین کے مطابق عمران خان کو مائنس وَن کرنے کا راستہ کھلا نہیں۔

QOSHE - عمران کی نا اہلی اور صدر کے اختیارات - بابر اعوان
menu_open
Columnists Actual . Favourites . Archive
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

عمران کی نا اہلی اور صدر کے اختیارات

12 0
16.12.2022

ایک کہانی پوٹھوہار کی لوک داستان ہے۔ دوسری صحرائے عرب کے اعرابی ؍ بدّو کی آپ بیتی۔ دونوں میں 'مورل آف دی سٹوری‘ سن کر پچھلے آٹھ ماہ کا پاکستان ذہن میں آتا ہے۔ کوئی بدّو پردیسی ہوگیا‘ صحرا چھوڑ کر دوسرے ملک میں جا پہنچا۔ کئی سال بعد اُسی علاقے میں بدّو کے گائوں سے تعلق رکھنے والے دوسرے آدمی کو بھی نوکری ملی۔ پہلی ملاقات میں پرانے پردیسی نے گائوں گوٹھ کا حال احوال جاننا شروع کیا۔ سب اچھا ہے‘ سب خیر سے ہے! صرف تمہارا کتا مر گیا ہے۔ یہ سن کر پرانا بولا: میرا کتا مرا کیسے؟ نئے نے جواب دیا: سب اچھا ہے‘ فکر کی کوئی بات نہیں‘ اُس کے گلے میں تمہارے اونٹ کی ہڈی پھنس گئی تھی‘ اس طرح وہ مرگیا۔ بدّو کی حیرانی پریشانی میں بدلنے لگی۔ نیا پھر بولا: فکر کی کوئی بات نہیں‘ اونٹ مرا نہیں‘ اسے تمہارے والد کے قل والے دن خیرات کے طور پر ذبح کرکے لوگوں کو اس کا گوشت کھلایا گیا۔ یہ ثواب کا کام ہے‘ فکر کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ اب بدّو پریشان کے بجائے ہلکان ہو کر پوچھنے لگا: والد صاحب کو کیا ہوا؟ نئے پردیسی نے کمال شانِ بے نیازی سے بتایا: ویسے تو وہ ٹھیک ٹھاک تھے‘ صحت مند لیکن تمہاری دادی کی اچانک موت کا صدمہ برداشت نہ کر سکے۔ ورنہ سب اچھا تھا۔
بدّو نے آہوں اور سسکیوں کے درمیان اگلا سوال کیا: دادی اماں کی وفات کس طرح ہوئی؟ جواب آیا: وہ ٹھیک ٹھاک تھیں کوئی مسئلہ نہیں تھا‘ رات کو کھانا کھانے کے بعد دیر تک تمہارے والد اور والدہ کے ساتھ باتیں کرتی........

© Roznama Dunya


Get it on Google Play