پاکستان کو بچانے کے لیے
ہمیں آنا پڑا: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''پاکستان کو بچانے کے لیے ہمیں آنا پڑا‘‘ جیسا کہ اس کو بنانے کے لیے بھی ہمیں ہی آنا پڑا تھا جس کی ایک دنیا گواہ ہے لیکن اسے محض مخالفین کی شرارت ہی کہا جا سکتا ہے کہ بچنے کے بجائے یہ ڈیفالٹ ہونے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور اس سے تو بہتر تھا کہ حکومت سنبھالنے کے بجائے اسے اس کے حال پر ہی چھوڑا دیا جاتا؛ تاہم جو کچھ ہو رہا ہے، امید ہے اس سے بھی بہتری کی کوئی شکل نکل آئے گی ورنہ حالات پر ہی رہے تو اس کی حالت مزید خستہ ہو سکتی ہے اس لیے بہتر ہے کہ یہ ہم سے اور ہم اس سے ذرا فاصلے ہی پر رہیں۔ آپ اگلے روز مانسہرہ میں خطاب کر رہے تھے۔
نئی نسل کو منشیات سے بچائیں گے: پرویز الٰہی
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ ''نئی نسل کو منشیات سے بچائیں گے‘‘ جبکہ پرانی نسل چونکہ اب اس منزل سے آگے نکل چکی ہے‘اس لیے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی اصلاحِ احوال پر خود ہی متوجہ ہو، جبکہ ویسے بھی اب ساری توجہ نوجوانوں پر ہی دینے کی ضرورت ہے جو ملکی آبادی کا تقریباً دو تہائی ہیں۔ نئی نسل پر توجہ دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر اسے نظر انداز کیا گیا تو یہ بھی زود یا بدیر پرانی ڈگر پر چل نکلے گی اور یہ کام ذرا جلدی کرنا پڑے گا کیونکہ ہمارے ہاں نئی نسل کو پرانی ہوتے زیادہ دیر نہیں لگتی۔ آپ اگلے روز برطانوی رکن پارلیمنٹ یاسمین قریشی اور اے پی این ایس وفد سے ملاقات کر رہے تھے۔
آصف زرداری پنجاب کی سیاست
کے بے تاج بادشاہ ہیں: حسن مرتضیٰ
پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ ''آصف زرداری پنجاب کی سیاست کے بے تاج بادشاہ ہیں‘‘ چنانچہ ان کے پاس باقی تو سب کچھ موجود ہے اورضرورت سے زیادہ ہی موجود ہے؛ البتہ ایک تاج کی کمی ہے اور کوئی بھی بادشاہ تاج کے بغیر بادشاہ نہیں کہلا سکتا اور اسی لیے شاید انہیں لوگ بادشاہ مانتے بھی نہیں ہیں اس لیے یہ بے حد ضروری ہو گیا ہے کہ ان کے لیے فی الفور کسی تاج کا انتظام کیا جائے جبکہ ملکہ برطانیہ کے انتقال کے بعد ان کا تاج بھی آج کل فارغ ہے‘ اور اسی کو حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے جبکہ اس تاج میں مرصع کوہِ نور پر ہمارا وطن پہلے ہی حقِ دعویٰ رکھتا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
سازشیوں کا یہی انجام ہوتا ہے: مریم نواز
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ''سازشیوں کا یہی انجام ہوتا ہے‘‘ کہ انہیں کہیں ٹک کر بیٹھنا نصیب ہی نہیں ہوتا اور وہ کبھی کسی اور کبھی کسی جگہ پر مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں اور اس طرح ان کے دنوں کا آرام اور راتوں کی نیند حرام رہتی ہے حالانکہ اس سلسلے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے اور سازشوں سے توبہ اور عبرت حاصل کرنی چاہئے تاکہ خود بھی معمول کی زندگی گزار سکیں اور دُنیا کے طنز و تشنیع کا نشانہ بھی نہ بنیں بلکہ اپنی ساری خوش اعمالیوں کا جائزہ لے کر راہ راست اختیار کرنے کی کوشش کریں اور اپنی شہرت کو بھی ٹھیک کریں۔ آپ اگلے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ٹویٹ کر رہی تھیں۔
وہ حسن ہی کیا جس حسن
میں کچھ ناز نہ ہو: سما راج
ماڈل سما راج نے کہا ہے کہ ''وہ حسن ہی کیا جس حسن میں کچھ ناز نہ ہو‘‘ چنانچہ میں کافی عرصے سے ناز کی تلاش میں ہوں تاکہ اپنے حُسن میں ناز پیدا کر کے اسے باقاعدہ حسن بنا سکوں اور کافی تلاش کے بعد معلوم ہوا ہے کہ یہ چیز بازار میں دستیاب نہیں ہے اور اگر کسی کے پاس ہو بھی تو وہ کسی کو دے کر بے ناز ہونا پسند نہیں کرے گا حالانکہ اگر تھوڑے عرصے کے لیے یہ کسی کو ادھار دے دیا جائے تو کسی کو اس سے کوئی خاص فرق پڑنے کا احتمال نہیں ہے؛ تاہم میرے مداح مایوس نہ ہوں، میں جلد از جلد اسے کہیں نہ کہیں سے حاصل کر کے اپنے علاوہ ان کی بھی خواہش پوری کر سکتی ہوں۔ آپ اگلے روز ایک فوٹو سیشن کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کر رہی تھیں۔
اور‘ اب ہڈالی سے گل فراز کی غزل:
کشش زیادہ ہو تو اجتناب ہوتا نہیں
مگر جو چاہیے وہ دستیاب ہوتا نہیں
کسی کو اور کسی پر میں کیسے دوں ترجیح
کہ ایک جیسوں میں سے انتخاب ہوتا نہیں
سوال ایسا بھی آ جاتا ہے کبھی کبھی تو
کسی کے پاس بھی جس کا جواب ہوتا نہیں
کرا نہیں رہا خود ہجر کا دوا دارو
نہیں کہ اس کا کوئی سدِباب ہوتا نہیں
میں کر رہا ہوں تگ و دو کہ اس کو فتح ملے
میں جان بوجھ کے ہی کامیاب ہوتا نہیں
جو کامیابی پہ منتج ہو وہ محبت کیا
اور ایسا رستہ بھی کیا جو خراب ہوتا نہیں
بغیر اُس کے کبھی مضطرب تھا میں کتنا
جدا وہ اب بھی ہے پر اضطراب ہوتا نہیں
آج کا مقطع
شعلہ مجبور ہو دریا پہ مچلنے کو ظفرؔ
کسی دن دشت سے چشمے کو ابلنا پڑ جائے

QOSHE - سرخیاں ، متن اور ہڈالی سے گل فراز - ظفر اقبال
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سرخیاں ، متن اور ہڈالی سے گل فراز

9 1 0
28.11.2022

پاکستان کو بچانے کے لیے
ہمیں آنا پڑا: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''پاکستان کو بچانے کے لیے ہمیں آنا پڑا‘‘ جیسا کہ اس کو بنانے کے لیے بھی ہمیں ہی آنا پڑا تھا جس کی ایک دنیا گواہ ہے لیکن اسے محض مخالفین کی شرارت ہی کہا جا سکتا ہے کہ بچنے کے بجائے یہ ڈیفالٹ ہونے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور اس سے تو بہتر تھا کہ حکومت سنبھالنے کے بجائے اسے اس کے حال پر ہی چھوڑا دیا جاتا؛ تاہم جو کچھ ہو رہا ہے، امید ہے اس سے بھی بہتری کی کوئی شکل نکل آئے گی ورنہ حالات پر ہی رہے تو اس کی حالت مزید خستہ ہو سکتی ہے اس لیے بہتر ہے کہ یہ ہم سے اور ہم اس سے ذرا فاصلے ہی پر رہیں۔ آپ اگلے روز مانسہرہ میں خطاب کر رہے تھے۔
نئی نسل کو منشیات سے بچائیں گے: پرویز الٰہی
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ ''نئی نسل کو منشیات سے بچائیں گے‘‘ جبکہ پرانی نسل چونکہ اب اس منزل سے آگے نکل چکی ہے‘اس لیے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی اصلاحِ احوال پر خود ہی متوجہ ہو، جبکہ ویسے بھی اب ساری توجہ نوجوانوں پر ہی دینے کی ضرورت ہے جو ملکی........

© Roznama Dunya


Get it on Google Play