2047ء کی ایک تقریر
کچھ ماہرین وزنیات اس پتھر کا وزن معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو گزشتہ روز حکومت نے اپنے دل پر رکھا اور دل پر رکھ کر بجلی کی قیمت میں ایک پیسے کی کمی کا فیصلہ کیا۔ بظاہر یہ کمی بہت معمولی ہے لیکن اتنی معمولی بھی نہیں۔ مثلاً اگر آپ مہینے میں 2 ہزار یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں تو آپ کو مہینے بھر میں 20 روپے کی بچت ہو گی۔ مہنگائی کے اس دور میں 20 روپے کی بچت بھی غنیمت ہے۔ خیر، ہوا کچھ یوں کہ پتھر کے وزن کا اندازہ لگانے کیلئے کچھ دوست احباب جمع تھے کہ اچانک ایک لیگی دوست بھی آ گئے۔ موصوف ایک وکیل ہیں اور حکومت کے پْرجوش حامی۔ کہا جاتا ہے کہ پورے جنوبی، جنوب مشرقی اور جنوب مغری لاہور میں یہ حکومت کے آخری حامی ہیں جو رہ گئے ہیں، باقی سب مخالف کیمپ میں چلے گئے۔ گویا جنس نایاب کے فرد ہیں۔ چنانچہ اس سنگ گراں مایہ کی آمد پر سبھی نے پْرجوش خیرمقدم کیا۔ ازاں بعد حالات حاضرہ پر تبصرے شروع ہوئے۔ ایک شریک مجلس نے پوچھا، حضرت، آپ کی جماعت کی حمایت عنقا ہوتی جا رہی ہے، اور ہوتی جا رہی ہے کیا۔ ہو چکی ہے۔ سو آدمی بیٹھے ہوں تو ایک بھی نہیں ملتا۔ اس حالت میں اگلا الیکشن آپ کیسے جیتیں گے۔ سنگ گراں مایہ یعنی جنس نایاب نے فرمایا کہ ہم ہی جیتیں گے، کیسے جیتیں گے یہ نہیں بتا سکتا لیکن جیتیں گے اور اگلا ہی نہیں، اس سے اگلا بھی ہم جیتیں گے اور اس سے اگلا بھی اور پھر اس سے اگلا بھی اور ہر بار........
